اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم واپس آکر بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، غزہ میں آگ بجھانے کی کوشش کسی حد تک کامیاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی سے متعلق پاکستان کی پالیسی واضح ہے، افغانستان کو پاکستان اور دہشتگردوں میں فیصلہ کرنا ہوگا،افغانستان سے آنے والوں نے ہمارے جوانوں کو شہید کیا۔
ہمارے جوانوں نے بھی متعدد دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم ایک سیاسی جماعت ہے، کراچی کی ترقی میں ایم کیوایم کا اہم کردار ہے، پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کا سیاسی اختلاف رہتا ہے۔
ایم کیوایم نے اپنا مئوقف پیش کیا،ایم کوایم نے بلدیاتی قانون سے متعلق تجویز وفاق تک پہنچائی ہے،آگے کوئی بات ہوگی تو دیکھیں گے۔
کسی کو اپنا مئوقف دوسرے پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم واپس آکر بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، پاکستان سمیت 8ممالک نے غزہ میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کی، غزہ میں آگ بجھانے کی کوشش کسی حد تک کامیاب ہوگئی ہے۔ سیز معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرنا تو پھر کیا کرنا ہے؟ بورڈ آف پیس کے ذریعے مثبت اقدامات ہوں تو اچھی بات ہے۔
دوسری جانب جے یوآئی ف کے مرکزی رہنماء کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یوآئی سیٹوں کے ساتھ چھوٹی جماعت ہے،سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلئے بڑی جماعتوں کو بات شروع کرنی چاہئے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کے تعلقات بہت اچھے ہیں، محمود اچکزئی کے ساتھ پہلے بھی کوئی اختلاف نہیں تھا۔



