ریو ڈی جنیرو(شِنہوا) برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا ڈی سلوا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی کہ وہ علاقائی کشیدگی کے بارے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کے بعد بین الاقوامی سیاست میں “طاقتور کی حکمرانی” کی وکالت کر رہے ہیں۔
ریاست میناس جیرائس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایسے یکطرفہ اقدامات چاہتے ہیں جس میں طاقتور فیصلہ کرتا ہے کہ دوسروں کو کیا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی خطے کو تنازعات سے پاک خطہ برقرار رکھنے کی ضروریات پر زور دیا لیکن ٹرمپ امریکی فوجی طاقت دکھانے پر بضد رہے۔
یہ ٹیلی فونک بات چیت امریکہ اور وینزویلا اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر لاطینی امریکی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں برازیل کی طرف سے بطور ثالث کام کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم درست کام کرنے کے لئے الفاظ کو قائل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر یں گے۔ سفارتی طور پر الفاظ مسائل کو حل کرنے کا سب مضبوط ہتھیار ہیں۔
برازیلین صدر کی ٹرمپ کے یکطرفہ اقدامات کی مذمت، جنوبی امریکہ میں کشیدگی ختم کرنے پر زور



