افغان حکمران سردار داود کا عبرت ناک انجام اور جوتے۔۔۔

نعش جوتوں اور کپڑوں سے پہچانی گئی‘ سیاہ رنگ کے بوٹ کی آب و تاب ابھی تک باقی تھی‘ تلوے کے ایک کونے میں مگرمچھ کی تصویر بھی موجود تھی اور بکل کی سنہری نکل بھی قائم تھی‘
کمپنی کا دعویٰ سچ نکلا کہ جوتوں کی شان و شوکت تیس برس بعد بھی قائم رہے گی۔

سوئٹزرلینڈ کی کمپنی دنیا کے صرف ایک ہزار خاندانوں کیلئے جوتے بناتی تھی‘ جوتوں کے تلوے نیوزی لینڈ کی گائے کے چمڑے سے بنائے جاتے تھے‘ یہ سنہری چمڑے اور نیلے سینگوں والی گائے ہے جو باقی دنیا کے کسی دوسرے خطے میں نہیں پائی جاتی۔

جوتے کی ’’ٹو‘‘ برازیل کے مگرمچھوں کی جلد سے بنائی جاتی ہے، جوتے کا ’’کوّا‘‘ افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کے چمڑے سے تیار کیا جاتا تھا اور جوتے کے اندر ہرن کے نرم چمڑے کی تہ چپکائی جاتی تھی اور پیچھے رہ گیا دھاگہ تو ان جوتوں کیلئے بلٹ پروف جیکٹ میں استعمال ہونے والے دھاگے استعمال کئے جاتے تھے۔

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ پچاس برس تک جوتے کی پالش خراب نہیں ہوتی جبکہ مٹی میں دفن ہونے کے ایک سو سال بعد تک جوتے کی آب وتاب برقرار رہتی ہے۔

افغانستان کا بادشاہ ظاہر شاہ اس کمپنی کا ایک ممبر تھا اور اس کمپنی سے اپنے لئےتیار کرواتا تھا۔ ظاہر شاہ جلا وطن ہوا تو سردار داؤد اس کمپنی کا ممبر بن گیا اور اس کے بعد اس نے ہمیشہ اس کمپنی کا جوتا ہی استعمال کیا یہاں تک کہ جب 1978ء کو اسے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور قتل کے بعد اس کی نعش جیپ کے ساتھ باندھ کر کابل شہر میں گھسیٹی گئی تواس وقت بھی اس نے یہی جوتا پہن رکھا تھا۔

وہ ایک بدقسمت حکمران تھا‘ اسے مرنے کے بعد غسل‘ کفن اور جنازہ نصیب نہیں ہوا تھا‘ لوگوں نے دو بڑی بڑی قبریں کھودی تھیں اور اسے اس کے خاندان کے دیگر 30 افراد کے ساتھ ان میں سے کسی ایک قبر میں دفن کر دیا تھا۔

اس کے خاندان کے کسی فرد کا جنازہ نہیں پڑھا گیا تھا‘ وہ تیس برس تک اس قبر میں پڑا رہا لیکن 26جون 2008ء کو ایک اتفاقی کھدائی کے دوران یہ دونوں قبریں دریافت ہوئیں
اور یوں جوتوں کے باعث اس کی نعش شناخت کر لی گئی۔
یہ جوتوں کے ذریعے شناخت ہونے والی دنیا کی پہلی نعش تھی اور دنیا کو پہلی بارجوتوں نے بتایا کہ ان کا مالک جنرل سردار محمد داؤد خان تھا۔

سردار محمد داؤد خان افغانستان کے شاہی خاندان محمد زئی سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ 18جولائی 1909ء کو پیدا ہوا‘ اس نے ابتدائی تعلیم جلیلی سکول کابل‘ ثانوی تعلیم امینیہ کالج اور اعلیٰ تعلیم فرانس سے حاصل کی۔ وہ سینٹ کرائی ملٹری اکیڈمی کا گریجوایٹ تھا۔
اس نے واپسی پرافغان فوج جوائن کی اور 24برس کی عمر میں میجر جنرل بنا دیا گیا۔
وہ 1932ء میں محض 25سال کی عمر میں صوبہ ننگر ہار کا جی او سی بن گیا۔ 1935ء میں وہ قندھار کا جی او سی بنا اور اسی سال اسے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پروموٹ کر دیا گیا۔
وہ دنیا کا کم عمر ترین جنرل تھا۔ 1946ء میں اسے یونیفارم کے ساتھ وزیر دفاع بنا دیا گیا۔
وہ پیرس‘ برن اور برسلز کیلئے سفیر بھی بنایا گیا اور اسی دوران افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ نے اسے اپنی ہمشیرہ شہزادی زینب کا رشتہ بھی دے دیا۔

وہ 1952ء میں شاہ کے ذاتی ایلچی کی حیثیت سے سوویت یونین کے صدر مارشل سٹالن کی تدفین کیلئے ماسکو گیا اور یہاں سے اس کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا۔

وہ روسی حکمرانوں اور
کے جی بی کا منظورنظر بنا اور اس نے اس کی پشت پناہی کا آغاز کردیا۔
ستمبر 1953ء کو شاہ نے اسے افغانستان کا وزیراعظم بنادیا۔ وہ دنیا کا یونیفارم میں پہلا وزیراعظم تھا۔ وہ وزیراعظم بھی تھا‘ وزیردفاع بھی
اور آرمی چیف بھی۔

اس نے وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی اپنے بھائی سردار محمدعظیم کو افغانستان کا وزیرخارجہ بنا دیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک کے اختیارات اپنے قبضے میں لے لئے۔

وہ سوویت یونین کا فکری حلیف تھا چنانچہ اس نے روس کے کہنے پر پاکستان میں پشتونستان کی تحریک شروع کرا دی۔

ظاہر شاہ سردار داؤد کے عزائم اور طالع آزما فطرت کوپہچان گیا چنانچہ اس نے 3مارچ 1963ء کو اس سے استعفیٰ لے لیا جس کے بعد سردار داؤد نے شاہ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔
ظاہرشاہ کو اطلاع ملی تو اس نے یکم اکتوبر 1964ء کو افغانستان کا آئین بدل دیا جس کی رو سے اب افغانستان کے شاہی خاندان کا کوئی رکن سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا تھا۔

شاہ نے سردار داؤد کا راستہ روکنے کا بندوبست تو کر دیا لیکن وہ یہ بھول گیا دنیا کا مضبوط سے مضبوط ترین آئین بھی فوج کا راستہ نہیں روک سکتا چنانچہ 17جولائی 1973ء کو ظاہر شاہ علاج کے سلسلے میں اٹلی گیا اور پیچھے سردار داؤد نے ظاہرشاہ کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لگا دیا۔ اس نے 1964ء کا آئین منسوخ کیا۔ افغانستان کو جمہوریہ افغانستان کا نام دیا
اور بیک وقت افغانستان کا صدر‘ وزیراعظم اور سنٹرل کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس نے 28جولائی کو پارلیمنٹ بھی توڑ دی
اور وہ ملک کا مطلق العنان حکمران بن گیا۔

وہ ایک ماڈرن شخص تھا‘ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں پردے اور داڑھی پر پابندی لگا دی۔ اس نے زنانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ لازمی قرار دے دی۔ مسجدوں پر تالے لگوا دئیے اور ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں شراب خانے اور ڈسکو کلب بنوائے۔ سردار داؤد کے دور میں کابل دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے عیاشی کا اڈہ بن گیا۔ اس دور میں ’’یورپ‘‘ کابل سے شروع ہوتا تھا‘ کابل کے بعد تہران عیاشی کا دوسرا اڈہ تھا‘ استنبول تیسرا اور اس کے بعد پورا مشرقی یورپ عیاشوں پر کھل جاتا تھا۔
سردار داؤد نے پورے ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں عقوبت خانے بھی بنا رکھے تھے۔ خفیہ اداروں کے اہلکار اس کےمخالفین کو دن دیہاڑے اٹھا لے جاتے تھے
اور اس کے بعد کسی کو ان کا نام اور پتہ تک معلوم نہیں ہوتا تھا۔ سردار داؤد کے زمانے میں تیس ہزار کے قریب ’’مسنگ پیپل‘‘ (گمشدہ لوگ)کہلائے اور ان لوگوں کے لواحقین کو بعدازاں ان کی قبروں کا نشان تک نہ ملا۔

جنوری 1974ء کو اس کےخلاف ایک چھوٹی سی بغاوت ہوئی
لیکن اس نے تمام باغیوں کے سر قلم کرا دئیے۔ ایک طرف اس کے مظالم جاری تھے اور دوسری طرف وہ عالمی میڈیا کو ایک جمہوریت پسند اور روشن خیال لیڈر کا چہرہ پیش کررہا تھا۔
اس نے روس کے ساتھ ساتھ مغرب کے ساتھ بھی تعلقات استوار رکھے۔ 27فروری 1977ء کو اس نے ملک کو نیا آئین دیا۔
ملک میں صدارتی طرز حکومت اور یک جماعتی نظام قائم کردیا اور یہ وہ وقت تھا جب اس کا اعتماد آسمان کو چھونے لگا‘ اس نے مارچ 1977ء کو نئی کابینہ بنائی اور اس کابینہ کے سارے عہدے اپنے خاندان اور دوستوں میں تقسیم کر دئیے۔ اس وقت تک ملک میں اس کے خلاف لاوا پک چکا تھا چنانچہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں خلق اور پرچم پارٹی اس کی مخالف ہو گئیں‘ ملک میں ہنگامے‘ سیاسی قتل وغارت گری اور مظاہرے شروع ہوگئے۔

وہ ظالم انسان تھا لہٰذا اس نے اپنی عادت کے مطابق مخالفین کو قتل کرانا شروع کردیا۔

اس نے 17اپریل 1978ء کو اپنے بڑے مخالف کیمونسٹ لیڈر میر اکبر خان کو قتل کرا دیا اور یہ وہ قتل تھا جس نے سردار داؤد خان کے خلاف نفرت کو ایک نقطے پر جمع کر دیا اور میر اکبر کے قتل کے محض دس دن بعد 27 اپریل کو سردار داؤد کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور فوج نے اسے، اس کے بھائیوں‘ بیویوں‘ بیٹیوں‘ پوتوں اور پوتیوں کو گولی مار دی۔ اس بغاوت میں اس سمیت اسکے خاندان کے 30افراد ہلاک ہو گئے۔
داؤد کی نعش کو جیب کے ساتھ باندھا گیا اور کابل شہر میں گھسیٹاگیا۔ داؤد کی نعش جس جگہ سے گزرتی تھی لوگ اس پر تھوکتے تھے اور اسے ٹھڈے مارتے تھے۔
شام کو جب نعش کا سفر مکمل ہوا تو اسے جنارے‘ غسل اور کفن کے بغیر خاندان کی دوسری نعشوں کے ساتھ اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ یوں سردار محمد داؤد خان کی نعش 30 برس تک ایک گمنام قبرمیں پڑی رہی۔ لیکن پھر 26جون 2008ء کو کھدائی کے دوران کابل شہر میں دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں، دونوں قبروں میں سولہ‘ سولہ نعشیں تھیں، ان نعشوں میں سے ایک نعش کے پاؤں پر مگرمچھ کی کھال کا جوتا تھا‘
جوں ہی جوتے پر پڑی خاک جھاڑی گئی اسکی پالش چمکنے لگی اور یوں اس جوتے نے یہ راز فاش کردیا اور سردار داؤد کی نعش سامنے آگئی۔

اللہ تعالیٰ کا نظام بھی کیسا عجیب ہے‘ وہ جب کسی ظالم سے نفرت کرتا ہےتو اس کی قبر کی بھی بخشش نہیں ہوتی
اور ظالم کے مرنے کے 30برس بعد اس کی سزا ختم نہیں ہوتی۔ بے شک ظالم پورے ملک کو اپنے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن یہ لوگ وقت کو شکست نہیں دے سکتے۔ یہ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اور جب اللہ کسی سے نفرت کرتا ہے وہ جوتوں کو اسکی نعش کا حوالہ اور قبر کا کتبہ بنا دیتا ہے۔ وہ اسے مرنے کے بعد بھی مرنے نہیں دیتا



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر