کراچی(نیشنل ٹائمز)قومی اسمبلی میں انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کی ممبر ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق خاص طور پر خواتین پر تشدد کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ وزیراعظم کے خواتین کے متعلق بیانیہ اور سیاسی مخالفین کے خلاف لب و لہجہ سے قانون شکنی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ حالت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر کی صاحبزادی بھی ہراساں کرنے کی فریاد کر رہی ہیں۔ جب ایک وفاقی وزیر کی صاحبزادی ہراسانی کی شکار ہو توعام خاتون کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر جو وزیراعظم کے قریبی ساتھی ہیںنے آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران خواتین کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ جب حکومتی عہدیداروں کا یہ رویہ ہو تو پھر معاشرہ عدم برداشت سے زہر آلود ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کے دوران خواتین پر تشدد اور ان سے زیادتی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی آج بھی کنٹینر پر کھڑے ہو کر ریاستی امور کو چیلنج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں خواتین کا سرعام قتل ہوتا ہے، اغوا کی وارداتیں ہو رہی ہیں مگر حکومت ایسے سنگین معاملات سے لا تعلق ہو کر سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
وزیراعظم کے خواتین کے متعلق بیانیہ اور سیاسی مخالفین کے خلاف لب و لہجہ سے قانون شکنی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں



