احتجاج، پوسٹربوائز اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا مستقبل

ویب ڈیسک(نیشنل ٹائمز)اباسی کڑھی میں اُبال کی طرح پاکستان تحریک انصاف نئے پوسٹربوائز کے ساتھ ایک بار پھر احتجاجی سیاست کی طرف لوٹ رہی ہے، اس بار اگست کا وہ مہینہ چُنا گیا ہے جس میں قیام پاکستان کا جشن منایا جاتا ہے اور اس سال غیر معمولی دفاع وطن کے سبب اس مہینے کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔پی ٹی آئی رہنماؤں نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ اس بار وہ ڈی چوک جائیں گے یا سپریم کورٹ کے جنگلے پر قمیض شلواریں دھو دھو کے لٹکائیں گے، یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان کا رخ لاہور میں قائداعظم کے گھر کی جانب ہوگا یا اس بار خیبرپختونخوا میں کوئی اچھوتا مقام تلاش کیا جائے گا جہاں دھرنا ہوگا یا جلسے میں جوشیلی تقاریر کرکے اپنا غصہ خود ہی ٹھنڈا کرلیا جائےگا۔نی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے کس کے خلاف لگائے جائیں گے یہ بات بھی نہیں بتائی گئی۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کو خاطر میں لاتی ہی نہیں، یقیناً یہ احتجاج حکومت کے خلاف نہیں، باقی سب سے متعلق ہوگا۔احتجاج کی قیادت کون کرےگا، یہ سوال جواب طلب اس لیے ہے کہ پی ٹی آئی میں قیادت کا بحران ہے، ہرشخص خود کو طرم خان تو سمجھتا ہے مگر دل میں اس بات کا قائل ہے کہ پی ٹی آئی کارکن لفاظی سے تنگ آچکے ہیں اور بھرے مجمع سے غائب ہونیوالوں کے اصل چہرے جان چکے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار مجمع اکھٹا کرنے کے لیے عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کو پاکستان بلانے کی ٹھانی گئی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ برطانیہ میں پلے بڑھے دونوں جوان بیٹے تسلیم کرچکے ہیں کہ اب عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی موثر آواز بچی ہی نہیں،عالمی میڈیا کے کیمروں کا فوکس بھی عمران خان نہیں۔حقیقت میں دیکھا جائے توپی ٹی آئی کے احتجاج کا یہ منصوبہ کارکنوں کو طفل تسلی دینے اور عمران خان پر یہ باور کرنے سے زیادہ کچھ نہیں کہ باہر بیٹھے اور اسمبلیوں کی زینت بنے پی ٹی آئی رہنما آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔اس بارے میں قیاس آرائی مشکل نہیں کہ احتجاج ہوا بھی تو اس میں کتنے لوگ شریک ہوں گے۔ وجہ یہ ہےکہ واشنگٹن میں پی ٹی آئی کے حالیہ مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد سے واضح ہے کہ امریکا میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کا جذبہ ماند پڑچکا۔مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس عرصے میں کسی بھی عوامی ایشو پر بڑے احتجاج کی کال دینے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے باہرنکالو کی تحریک نہ پہلے کامیاب ہوئی نہ اب کامیاب ہونے کا کوئی امکان ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیرمعمولی منصوبہ بندی کے ذریعے جس طرح ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہےاور بھارت کو ناکوں چنے چبوائے گئے ہیں، بہتر یہ ہوتا کہ اگست کا مہینہ تاریخی جشن کے طورپر منایا جاتا۔ یہ جشن مودی سرکار کے زخموں پرنمک پاشی کے مترادف ہوتا۔عالمی منظرنامہ ویسے ہی بدلا ہوا ہے، پی ٹی آئی کوجس امریکا پربھروسہ تھا وہ پتے بھی ہوا دے چکے ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے تو عمران خان سے متعلق امریکا کا سرکاری موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔ جنہیں اس معاملے کی زیادہ فکر ستارہی ہو، انہیں وائٹ ہاؤس سے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیا گیا ہے۔بہتر ہوگا کہ پی ٹی آئی کے دُلارے صحافی وائٹ ہاوس جاکر بھی حسرت پوری کرلیں کیونکہ وہاں سے بھی جواب کچھ حوصلہ افزا ملنے والا نہیں۔ صدر ٹرمپ اس شہباز حکومت کی تعریفوں کے پل باندھتے ملیں گے جس نے ان کی مداخلت پربھارت کے خلاف جوابی حملے روکے یا ان وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی تعریف کرتے ملیں گے جنہوں نے اپنے دستخط سے نوبیل کمیٹی کو خط لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے اور جنوب ایشیا میں قیام امن کے لیے غیرمعمولی اقدام پر صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دیا جائے۔حقیقت پسندی اپنائی جائے تو پی ٹی آئی رہنماوں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ ان مچانوں پر واپس لوٹ جائیں جہاں سے کبھی انہوں نے عمران خان کا چڑھتا سورج دیکھ کر اڑانیں بھری تھیں۔سیست کے اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ اس وقت ن لیگ کی گُڈی چڑھی ہوئی ہے۔ شہباز شریف نے وہ ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے کہ بعید نہیں کہ کل وہ حمزہ شہباز بھی سیاست میں فعال ہوجائیں جو ایک عرصے سے پنجاب میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔پنجاب میں چونکہ ن لیگ کے پاس پہلے ہی ہر نشست پر کئی امیدوار موجود ہیں، اس لیے پیپلزپارٹی کا انتخاب کرکے بھی یہ پی ٹی آئی رہنما اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔جہاں تک سندھ کا تعلق ہے، پی ٹی آئی رہ نما اگر ایم کیوایم پاکستان میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے انہیں گو زرداری گو کا نعرہ لگانے کی گردان کرنا آسان رہےگا۔ اس طرح ایم کیوایم میں بھی ایک نئی روح آئے گی۔یہ الگ بات ہے کہ خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال اور فاروق ستار میں بٹی یہ پارٹی اپنا دامن کس حد تک وسیع کرنے پر آمادہ ہوگی اور یہ بھی کہ آیا پی ٹی آئی رہنما اس پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ان میں سے کس کی قیادت کوقبول کریں گے یا اس پارٹی کا کوئی نیا چہرہ سامنے آئے گا جو پارٹی کو اگلے الیکشن کے لیے تیار کرےگا۔



  تازہ ترین   
ٹرمپ کی آج رات ایران میں بڑی کارروائی کی دھمکی، تیل تنصیبات پر قبضے کا عندیہ
قومی اقتصادی سروے پیش، حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام
لیڈر کی رہائی کیلئے احتجاج کریں مگر اداروں کو نشانہ نہ بنائیں: خواجہ آصف
بھارت کی پانی روکنے کی کوشش کے دور رس نتائج نکلیں گے: دفتر خارجہ
بجٹ کل 3 بجے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا: طارق فضل چودھری
ایران کے بحرین، اردن اور کویت میں امریکی اہداف پر حملے، آبنائے ہرمز بند
ایرانی رہنماؤں نے درخواست کر دی، بمباری جلد روک دی جائیگی: امریکی صدر کا دعویٰ
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا عالمی برادری سے فلسطینیوں کی نسل کشی پر کارروائی کا مطالبہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر