برسلز (نیشنل ٹائمز) پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے یورپی کمیشن میں کمشنر برائے بین الاقوامی شراکت داری کی کابینہ سربراہ محترمہ لوسی سیسٹاکووا (Lucie Sestakova) اور کابینہ کی ایشیا امور کی ماہر محترمہ نیٹیویڈاد لورینزو (Natividad Lorenzo) سے ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی، پاک-یورپی یونین تعلقات اور “گلوبل گیٹ وے اقدام” کے تحت ممکنہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی و ہم آہنگی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اطلاعات و ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان، سابق وفاقی وزیر برائے تجارت، دفاع اور امور خارجہ انجینئر خرم دستگیر خان، اور سابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ شامل تھیں۔
پارلیمانی وفد نے جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتحال پر یورپی حکام کو بریف کیا، اور بھارت کی جانب سے اپنائے گئے جارحانہ، منفی اور یکطرفہ اقدامات کے باعث خطے میں امن و سلامتی کو لاحق شدید خطرات پر روشنی ڈالی۔
وفد نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو خطے کے لیے ایک تشویشناک رجحان قرار دیا۔ وفد نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں دیرپا امن کی راہ میں رکاوٹ بھی ہیں۔
ملاقات میں “گلوبل گیٹ وے” اقدام کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کے مابین شراکت داری کو وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے باہمی تعاون کے فروغ، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل رابطے، ماحولیاتی تحفظ، اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں ممکنہ اقدامات پر بات چیت کی۔
پاکستانی وفد نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ خطے میں استحکام، قانون کی حکمرانی، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرے۔



