اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) حکومت نے کورونا کی نئی قسم کے ممکنہ حملے کے پیش نظر 9 سے 18 جولائی تک ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے سختی کا فیصلہ کیا ہے اور یکم اگست سے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر اندرون ملک ہوائی سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کورونا کی بھارتی قسم (ڈیلٹا وائرس) کو انتہائی خطرناک قراردے دیا گیا ہے اور پاکستان میں ڈیلٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں جو کورونا کی چوتھی لہر بھی ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر این سی او سی نے ڈیلٹا وائرس اور پاکستان میں موجود دیگر وائرس کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ این سی او سی کا کہنا ہے کہ اگر ڈیلٹا وائرس پہ قابو پانے کے لئیے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس وائرس کی وجہ سے بھارت نے نہ صرف لاکھوں اموات کا سامنا کیا بلکہ اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے باعث عوام بے یار و مددگار اذیتیں جھیلتے رہے، تاہم پاکستانی عوام کو اس وائرس کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے این سی او سی نے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔این سی او سی کے مطابق کورونا کی چوتھی لہر کے پیش نظر متعلقہ ایس او پیز پر عمل درآمد اور ویکسین لگوانے کی رفتار کو تیز کرنے پہ زور دیا جائے گا، اس ضمن میں موجودہ ایس او پیز کا شدت سے نفاذ 9 سے 18 جولائی تک یقینی بنایا جائے گا، اور عید الاضحٰی کے موقع پہ وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں غیر ضروری نقل و حرکت کو محدود رکھنے کیے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن پہ عمل درآمد کا فیصلہ کورونا کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھ کر آئندہ چند دن میں کیا جائے گا، جب کہ بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر سیر و سیاحت پہ پابندی کا بھی امکان ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائر س کی نئی لہر، کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے کا فیصلہ



