لاہور(نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہاہے کہ زلزلہ، طوفان اور کرونا جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے،کووڈ کے دوران میڈیا، عدلیہ، علما کرام، ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف سمیت تمام اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ سیاسیات کے زیر اہتمام پاکستان میں کووڈ19کے دوران گورننس کے چیلنجز پر دو روزہ قومی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے آن لائن خطاب کررہے تھے۔ تقریب میں چین کے سفیرمسٹر نونگ رونگ نے بھی آن لائن شرکت کی جبکہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیازاحمد اختر، سابق نگران وزیر اعلی پنجاب پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری،بانی ڈائریکٹرسنٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس ایف سی کالج لاہو ڈاکٹر سعید شفقت، ڈین فیکلٹی آف بہیوریل اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عنبرین جاوید، چیئرپرسن شعبہ سیاسیات پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد، محققین، سینئر فیکلٹی ممبران اور طلبا طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں اسد عمر نے کہا کہ کوڈ 19 میں حکومت پاکستان کو عوام کی صحت کے ساتھ معیشت کو بچانے کا چیلنج بھی درپیش تھا جس سے نبرد آزما ہونے اور لوگوں تک سچائی پہنچانے کیلئے نیشنل کو آرڈنیشن کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹرکا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی میں حکومت اور عسکری قیادت نے مل کر ملکی مفاد میں بہترین فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی نے روز مرہ کے ڈیٹا کی بنیاد پرلاک ڈان، ہاٹ سپاٹ لاک ڈان اور سمارٹ لاک ڈا ن کے فیصلے کیے تاکہ لوگوں کی صحت کے ساتھ معاشی حالت بھی بہتر رہ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ممالک سے سیکھ کر اپنے ملک کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تمام فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا توامیر، غریب کی بحث کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سب پر یکساں قوانین لاگو کئے گئے یہاں تک کہ صدر اور وزیر اعظم نے بھی اپنی باری پر ویکسین لگوائی۔ کوروناسے نمٹنے کیلئے کم وسائل اور صحت کی کمزور سہولیات کے تناظر میں حکومت نے ہسپتالوں کوفراہم کردہ سہولیات میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف ایپلیکیشنز کے ذریعے ہسپتالوں میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد، آکسیجن کی دستیابی، بیڈزکی صورتحال اور ادویات کی سہولیات کاپتا لگانا آسان بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اس مشکل گھڑی میں ایک بار پھر پاکستان کا ساتھ دیکر دوستی کا حق ادا کیا۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حکومت مستقبل کیلئے لائحہ عمل ترتیب دے رہی ہے تاکہ کرونا جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے موثر اور مربوط حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔آخر میں انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
کرونا جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اسد عمر



