قاہرہ (شِنہوا) ایک مصری ماہر نے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں بدامنی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مصری کونسل برائے امور خارجہ کے ڈائریکٹر عزت سعد نے شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ خطے میں امریکی پالیسی کے مبصر کی حیثیت سے میرے 2مشاہدات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلا مشاہدہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کی سیاسی بیان بازی میں بہت زیادہ تکبر، غرور اور گھمنڈ پایا جاتا ہے اور یہ مسلسل طاقت کے استعمال کی دھمکی دے رہی ہے۔
دوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے پاس عام طور پر مشرق وسطیٰ یا دیگر مسائل کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے۔
سعد نے نشاندہی کی کہ علاقائی کشیدگی کا ایک دیرینہ ذریعہ فلسطینی مسئلہ کو خاص طور پر غلط طریقے سے نمٹانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ کو مشرق وسطیٰ کا ریویرا بنایا جا سکتا ہے اور واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ غزہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
سعد نے کہا کہ فطری طور پر عرب دنیا اور بین الاقوامی برادری نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اس نقطہ نظر کو مسترد کر دیا۔
سعد نے مزید کہا کہ زمینی حقائق ایسے اعلانات کے منافی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی غیر جانبدار مبصر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے پہلے 100 دنوں کے دوران کسی بھی محاذ پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی پالیسیاں مشرق وسطیٰ میں بدامنی کو بڑھا رہی ہیں، مصری ماہر



