اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ کیس حکومت کی اُس کوشش سے متعلق ہے جس میں وہ فنڈنگ کو دباؤ کے طور پر استعمال کر کے ہارورڈ کی علمی خودمختاری پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ فنڈنگ کی منسوخی سے بچوں کے کینسر، الزائمر اور پارکنسنز جیسی بیماریوں پر جاری اہم تحقیق متاثر ہو رہی ہے۔واضح رہے ٹرمپ حکومت کی جانب سے ہارورڈ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے نصاب، بھرتیوں اور داخلوں کے ڈیٹا پر حکومت سے منظور شدہ آزاد آڈٹ کی اجازت دے۔یونیورسٹی کے حکومتی مطالبات مسترد کرنےکےنتیجےمیں اس کی 2.2 ارب ڈالر کی وفاقی فنڈنگ منجمد کر دی گئی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فنڈز کٹوتی پر ہارورڈ یونیورسٹی کا عدالت سے رجوع



