اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وپڈا کے پن بجلی گھروں نے مالی سال 2020-21ء کے دوران 37 ارب 14کروڑ 70لاکھ یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی پیدا کی۔پن بجلی کی یہ پیداوارمالی سال 2019-20ء کے تقریباًبرابر ہے جبکہ گزشتہ 10سال کے دوران اوسط سالانہ پیداوارسے 3 ارب8کروڑ یونٹ زیادہ ہے۔2020-21 ء میں واپڈا پن بجلی کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا سے 12 ارب 61کروڑ یونٹ، تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے3 ارب 42کروڑ یونٹ، غازی بروتھہ سے 6 ارب 89کروڑ یونٹ، منگلا سے 5 ارب 40کروڑ اور نیلم جہلم سے 4 ارب 79 کروڑ یونٹ پن بجلی پیدا ہوئی۔ جبکہ واپڈا کے دیگر پن بجلی گھروں نے 4 ارب 3کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پن بجلی سستی ترین اور ماحول دوست بجلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک کے اقتصادی اور معاشرتی شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ملکی اقتصادیات میں پن بجلی کے مثبت اثرات کا اندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 2020-21ء کے دوران پن بجلی کی فی یونٹ اوسط پیداواری لاگت 2روپے 82پیسے رہی۔ جبکہ تھرمل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی پراوسطاً 13 روپے 14پیسے فی یونٹ لااگت آئی۔ملک بھر میں نیلم جہلم سمیت واپڈا کے پن بجلی گھروں کی تعداد 22ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9 ہزار 406میگاواٹ ہے۔ نیشنل گرڈ میں سستی پن بجلی کے تناسب میں اضافہ کرنے کیلئے واپڈا ایک مربوط پروگرام پر عمل کر رہا ہے۔ جس کے تحت پن بجلی کے کئی ایک منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ یہ منصوبے 2023 ء سے 2028-29ء کے دوران مکمل ہوں گے۔ اِن منصوبوں کے مکمل ہونے پر واپڈا کی پیداواری صلاحیت9ہزار 406میگاواٹ سے بڑھ کر 20ہزار 591میگاواٹ ہو جائے گی۔ اسی طرح واپڈا کی نیشنل گرڈ کو مہیا کی جانے والی سستی اور ماحول دوست بجلی بھی 37 ارب یونٹ سے بڑھ کر 81 ارب یونٹ سالانہ ہو جائے گی۔
واپڈا نے 2020-21ء میں37 ارب یونٹ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کی



