الیس منکم رجل الرشید

خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو دین کیا ہے؟رب کا قرآن اور نبیۖ کا فرمان ۔ان دونوں میں سے کسی ایک کا انکار پورے دین کا انکار ہے ۔ قرآن اگر احکامات ہیں تو حدیث ان احکامات کی وضاحت ،اسلام دشمنوں کو اصل مسئلہ ہی حدیث سے ہے ،تاریخ بھری پڑی ہے ایسے بدبختوں سے کہ جو شیطان کے مکر کا شکار ہوکر حدیث سے انکار کے مرتکب ہوئے ،امت کے اجتماعی ضمیر نے ہمیشہ اسے قبول کرنے سے انکار کیا ؟علماء حدیث نے ہر دور میں اس فتنہ کی بیخ کنی کی او ر ان کے رد میں حجیت حدیث اور حدیث کی آئینی حیثیت پر کتابیں لکھیں۔ اس بار یہی فتنہ ایک بڑے مقام سے اٹھا ہے ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک عرصہ سے خبر ایحاد کو قبول کو قبول کرنے سے گریزاں تھے اور اس حوالہ سے اپنی جہالت کا مظاہرہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے ۔ حالانکہ ربع دین خبر ایحاد پر قائم ہے ، صرف فضائل نہیں بلکہ یہ ربع دین احکامات اور تفصیلات ہیں ، دین اور دینی معاشرے کی اساس ہے ۔ اس کا انکار کردیں تو دین میں باقی رہ ہی کیا جاتا ہے ؟ بلکہ یہاں تک کہ خود قرآن بھی تو خبر ایحاد ہی ہے ۔ اب یہ شاہی زبان اس سے آگے بڑھ گئی ہے اور احادیث مبارکہ کو ماخد دین ماننے سے ہی انکاری ہو چکی ہے ۔ گزشتہ ماہ العربیہ ٹی وی پرحسن فرحان المالکی کو دئے گئے انٹر ویو میں موصوف نے حدیث کے حوالے سے جو زبان استعمال کی ہے ، اگر کوئی دوسرا کرتا تو اب تک قتل ہوچکا ہوتا ،لیکن المیہ یہ ہے کہ کوئی اور تو اور،میرے اہل حدیث جن کی شناخت اور وجود ہی حدیث کا مرہون منت ہے ، وہ بھی چپ ہیں ، ایسا سکوت طاری ہے کہ سکوت مرگ کہیں تو بے جا نہ ہو ۔حالانکہ اہل حدیث کی تو تاریخ ہی یہ کہ ہرعہد میں حدیث سے منسلک رہے ،حدیث کی ثقاہت ،روائت ، درائت اور متن ومعانی پرپہرہ دیا ۔ تدوین حدیث سے لے کر تحفیظ حدیث تک اور ترویج حدیث سے تعلیم حدیث تک ہر عہد ،ہر وقت اور ہر حال میں اہل حدیث کا طرہ امتیاز رہا ہے ، مگر وائے ناکامی ………وائے ناکامی …وائے حسرتا ،وائے حسرتا… کہ یہ وقت بھی ہمیں اپنی زندہ وبے دار آنکھوں کے ساتھ دیکھنا تھا کہ چند عناصر کے اقتصادی مفادات پورے مسلک اہل حدیث کی زبانوں کو دفاع حدیث سے ہی بے بہرہ کردیں گے ؟یہ وقت بھی ہماری زندگیوں میں آنا تھا کہ گنتی کے چند لوگوں کے پیٹ کی خاطر اہل حدیث حدیث کا مقدمہ لڑنے سے ہی گریزاں ہوگئے ؟قبر پرستی اور شخصیت پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے آج اس سے بھی بڑے شرک شاہ پرستی میں اس قدر مستغرق ہوچکے کہ محمد بن سلمان کی حدیث دشمنی پر بھی بو لنے تک پر آمادہ نہیں ، اپنی چودہ سو سالہ تاریخ کو ہی جھٹلادیا ، ملیا میٹ کردیا ۔اپنے آباء کی مساعی جلیلہ پر ہی خط تنسیخ پھیر دیا ۔کاش کوئی ٹٹول کر دیکھے اور بتائے کہ ہم زندہ بھی ہیں ؟؟؟؟؟
وائے ناکای کہ متاع کاررواں جاتا رہا کاررواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہ
جتنی سہولت کے ساتھ شاہ زادے کے کفریات کو ہضم کرنے اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس پر سرشرمندگی سے جھکتے چلے جاتے ہیں ۔اقبال کے ان اشعار میں اگر مسلمان کی جگہ اہل حدیث پڑھ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے ، علامہ ہمارا ہی نقشہ کھینچا ہے ۔
شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اس وقت مسلک حق پر جو بے بسی ، بے کسی اور بے بصیرتی طاری ہے،اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا لازم ہوجاتا ہے کہ شائد وہ حمیت وغیرت اور دینی جذبہ حریت جو کبھی اہل حدیث کی شناخت تھا ،وہ عنقا ہو چکا ۔
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے
ارباب دانش سے مایوس ہوکر اک عام اہلحدیث کارکن سے کہوں گا ، مدرسے کے طالب علم اور تعلیم سے فارغ نوخیز علماء دین سے کہنا چاہتا ہوں کہ وقت برباد نہ کریں، میں آپ کے سامنے محمد بن سلمان کے انٹرویو کے کچھ حصے پیش کر رہا ہوں ، انہیں غور سے پڑھیں اور پھر وہی رویہ اختیارکریں جو آج تک آپ نے اپنے اساتذہ سے پڑھا ہے ۔
دل تھامئے ، جگر پر جبر کیجئے ،شاہ زادے کا انٹر ویو پیش خدمت ہے ۔ اسے پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا خاموشی جائز ہے ؟
کیا اسے نظر انداز کرنا مناسب ہے ؟میں اہل حدیث شیوخ الحدیث سے بھی دست بستہ ملتمس ہوں کہ مفاد کے ڈوری سے بندھے عناصر کی جانب نہ دیکھیں ،اپنے رب کی جوابدہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ،اس انٹر ویو کو پڑھیں اور پھر قوم راہنمائی کریں ؟
سعودی ولی عہد ، محمد بن سلمان کا ایک ماہ قبل العربیہ ٹی وی پر دیا گیا انٹر ویو ، عربی سے اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ۔
………………………
حسن فرحان المالکی :جب میں قرآن میں عقیدہ کی آزادی کو دیکھتا ہوں جبکہ دوسری طرف ایک حدیث ہے جو مرتد کی سزا موت بتاتی ہے اور جو شخص آزادی کو ترویج دے اس کی بھی سزا موت بتاتی ہے ، تو میں کس طرف جاوں؟
پرنس محمد بن سلیمان: میں اس کی طرف جاوں گا جو قرآن کہتا ہے: دین میں کوئی زبردستی نہیں، درست راستہ غلط راستے سے الگ کر دیا گیا ہے۔(2:256)اور اسی طرف انصاف کی مرکزیت ہے۔ جب اللہ قرآن میں فرماتا ہے:ہم نے واضح دلائل کے ساتھ رسول بھیجے اور کتاب اور میزان بھی تا کہ لوگ انصاف پر قائم رہ سکیں۔ (57:25)اس طرح انصاف قائم کرنا رسولوں اور کتاب کا مقصد بن جاتا ہے جبکہ حدیث کی کتابوں میں کوئی انصاف والا باب ہی نہیں ہے، نہ بخاری میں، نہ مسلم میں اور نہ ہی(ان سمیت )چھ کتابوں میں۔وہ عبادت (کو تو زیر غور رکھتے ہیں اور ان مرکزی باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو قرآن میں کثرت سے بیان کی گئی ہیں۔ جیسے کہ عقل، انصاف، ایمانداری، علم اور اس کے معیار، انسانی حقوق۔ یہ قرآن میں کثرت سے ذکر ہیں جبکہ ان کو اہمیت نہیں دی جارہی اور وہ ان کو ترک کیے ہوئے ہیں ۔ روایات(جمع کرنے) کی تحریک ارباب اختیار کے زیر سایہ چلائی گئی۔ زیادہ تر یہی ہوا ہے کہ بڑے بڑے راوی ظالم حکمرانوں کے درمیان پھلے پھولے ہیں. بہرحال اہل حدیث لوگوں کی ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کوئی ایک بھی حدیث کو رد کرتا ہے، خواہ وہ قرآن سے ٹکراتی ہو، اس نے سنت رسول کو رد کیا۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ حدیث کی دونوں کتابوںبخاری اور مسلم میں ایسی حدیثیں ہیں جو واضح طور پر قرآن کے متضاد ہیں۔ اس کے باوجود اہل حدیث اور ان کے سپورٹرز سنت کے تحفظ میں حد پار کر جاتے ہیں۔ ہمارا جھگڑا ان کے ساتھ نہیں۔ ہمیں واضح کر دینا چاہیے کہ جھگڑا نبی کے فرمائے ہوئے مستند ارشادات کے حوالے سے نہیں بلکہ اس حوالے سے ہے جن کا انہوں نے دعوی کیا تھا کہ وہ مستند ہیں جبکہ وہ نہیں ہیں، کیونکہ حضرت محمدۖ قرآن کے خلاف نہیں کرتے تھے۔ جیسے کہ قرآن میں خود ان کا قول ہے : کہہ دے کہ میں تو صرف اسی کتاب کی اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ (7:203) لہذا ایسی حدیثوں کا ملنا نا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر قرآن عقیدے کی آزادی کی ترویج کرتا ہے جبکہ ایک حدیث بھی موجود ہے جو مرتد کی سزا قتل بتاتی ہے۔ اہل حدیث نے تو پورا پیرامڈ ہی الٹا کر رکھ دیا ہے۔ قرآن کی اہم مرکزی تعلیمات جو کہ اسلام کی روح ہے، جیسے کہ علم، انصاف، اللہ سے ایمانداری۔ چھ حدیث کی کتابوں میں ایک باب بھی عقل کے استعمال کے حوالے سے نہیں ہے اور نہ علم، نصاف، حواس (senses) کا استعمال اور نہ ہی اللہ سے ایمانداری پر کوئی باب ہے۔ یہ صرف خود ساختہ تفصیلات و جزویات میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ میں تمام احادیث کو ایک ہی کیٹگری میں نہیں لاتا لیکن زیادہ تر حدیثیں جو لوگوں کی زبانوں پر ہیں، اگر آپ ایک مبلغ سے 100 حدیثیں سنو تو جان لو کہ اس میں سے 90 وہ ہیں جو محمدۖسے جھوٹ منسوب کی گئی ہیں۔
حسن فرحان المالکی :لیکن شیخ آپ نے یہ کیوں کہا کہ 100میں سے 10 ہی مستند ہیں؟
پرنس محمد بن سلیمان: کیونکہ ان کے جانچنے کا معیار ہی غلط ہے۔ وہ حدیث کی جانچ قرآن سے نہیں کرتے اور ایسی حدیثوں کو بھی مستند قرار دے دیتے ہیں جو قرآن، عقل، آزادی اور تمام اصولوں سے متضاد ہوتی ہیں۔ اہل حدیث کے نزدیک قرآن ایک غیر اہم ماخذ بن چکا ہے۔ وہ قرآن سے اتنا رجوع نہیں کرتے جتنا روایات سے کرتے ہیں۔ وہ صرف زبانی کہنے کی حد تک دعوی کرتے ہیں کہ قرآن ہی دین کا اولین بنیادی ماخذ ہے۔ بخاری تو شیخ علی ابن المدینی کا نتیجہ ہے اور سفیان(ابن عیینہ)سے نکلا ہے، اور سفیان، الزہری سے نکلا۔ الزہری راوی عبدالمالک بن مروان کے دربار میں(ملازم )تھا۔ ہمیں حدیث کی سندسے پہلے اس کے متن کو دیکھنا چاہیے، بلکہ حدیث سے پہلے قرآن کو دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اسلام کو الٹا کر رکھ دیا ہے اور قرآن کو نچلے درجے پر رکھ دیا ہے اور بخاری، نووِی اور ابن حجر کو عظیم ٹھہرا دیا ہے جیسے کہ وہ ملائکہ ہوں۔
ہم قرآن کے پیروکاروں کو تو ایک بھی موقع نہیں دیا گیا۔ یہاں پر صحابہ کی پیروی کرنے والے(اہل حدیث، سلفی، اہل سنت) بھی ہیں اور نبی کے گھر والوں کی پیروی کرنے والے(اہل تشیع) بھی ہیں، لیکن خالص قرآن کے سچے پیروکار بہت کم ہیں اور ان کو تاریخ میں ایک بھی موقع نہیں دیا گیا، کہ ہم قرآن کو اور جو کچھ اس میں اللہ نے فرمایا ہے اسے سامنے لائیں۔ان کا اس آیت پر موقف ہی دیکھ لو کہ:جن پر غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔ سورہ فاتحہ کی آخری آیت)وہ (اہل حدیث/اہل سنت کہتے ہیں کہ جن پرغضب ہوا وہ یہودی ہیں اور جو گمراہ ہوئے وہ عیسائی ہیں۔ یہ اللہ کے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ ان کی اپنی کی ہوئی متعصبانہ تاویل ہے۔
جب آپ ان سے عقیدہ کی آزادی کے متعلق آیت 2:256 کا پوچھتے ہیں تو وہ اس بات کے تعین میں ٹھوکر کھاجاتے ہیں کہ آیا اس مسلمان کو (مرتد قرار دے کر)قتل کردیاجائے یا نہیں جس نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ اللہ نے فرما دیا ہے کہ: دین میں کوئی زبردستی نہیں ، سیدھا راستہ غلط راستے سے الگ کر کے واضح کر دیا گیا ہے۔ (2:256)اور یہ بھی کہ اللہ نے ان کی سزا آخرت تک کے لیے موخر کر دی ہے۔جہاں تک مرتد کی سزا کا تعلق ہے تو یہ قانون دانوں (فقہا جن کی بنیاد حدیثوں پر ہے)کی طرف سے شامل کیا گیا۔حکمرانوں کے کہنے پر شامل کیا گیا ۔
حسن فرحان المالکی :آپ بنو امیہ کے دور کی بات کر رہے ہیں؟
پرنس محمد بن سلیمان:دونوں کی، اموی اور عباسی ادوار میں لوگوں کو بدعت کے نام پرقتل کیا گیا۔ لہذا ہمیں قرآن کی روح کو واپس بحال کرنا پڑے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ قرآن کو بخاری، مسلم، مسند احمد اور باقی تمام فرقوں کی کتابوں سے اوپر رکھا جائے ۔
حسن فرحان المالکی :شیخ صاحب! کیا آپ عقیدہ کی آزادی اور مرتد کے علاوہ کوئی اور مثالیں بھی دے سکتے ہیں؟
پرنس محمد بن سلیمان:ہاں کیوں نہیں۔ مثال کے طور پر عدل و انصاف کا معاملہ۔ قرآن میں عدل و انصاف کی مرکزیت کو روزوں، نمازوں، حج اور خیرات سے بھی زیادہ اہم بتایا گیا ہے، کیونکہ اللہ نے اسی(عدل و انصاف کے قیام) کو رسول اور صحیفے بھیجنے کا مقصد بتایاہے۔ لیکن وہ اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔ حدیث میں مذکور اسلام کے ستونوں کو نافع بن عمر کی روایت سے لیا گیا ہے، قرآن سے نہیں۔ ہمیں اسلام کے ستونوں کو پہچاننا ہوگا۔ اس بات سے قطع نظر کہ مجھے لفظ “ستون” پر تحفظات ہیں۔ اس طرح کا کوئی معنی قرآن میںکہیں ذکر نہیں ہوا۔ اسلام کی بڑی بڑی بنیادیں لازمی طور پر قرآن سے لینی چاہئیں۔ اسلام کے جن ستونوں کے ہم عادی ہوچکے ہیں وہ حدیثوں کی بنیاد پر ترتیب دیئے گئے ہیں، نہ کہ قرآن کے تحت۔ انہوں نے انصاف، آزادی اور اللہ کو پہچاننے کے بڑے ذرائع کو چھوڑ دیا ہے اور عبادت کے لوازمات کو پکڑ لیا ہے تا کہ وہ مسلمانوں کو اپنے تک اور اپنی مساجد تک محدود رکھ سکیں۔ معتزلہ) اس (عدل و انصاف کے قرآنی ستون) کو شہاد (ایمان کی گواہی کے بعد اور صلو سے پہلے رکھتے ہیں۔ جو شخص بھی قرآنی بنیادوں کو پکڑتا ہے یہ (اہل حدیث) اس کو اپنے خلاف کیچڑ سمجھنے لگتے ہیں، اس پر بدعتی ہونے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ یہ خود بدعتی اور جھوٹی باتیں گھڑنے والے ہیں۔ عقیدہ کی بنیاد حدیثوں کی بنیاد پر ہے، قرآن میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ قرآن میں صرف اسلام اور ایمان ہے۔ عقیدہ ایک من گھڑت چیز ہے۔”
آخر میں پھر اپنے ہی اہل حدیث شیوخ الحدیث سے عرض پرداز ہوں کہ اس انٹر ویو کو پڑھیں ،اور ہماری راہنمائی کریں ، یہ اس لئے بھی آپ کی ذمہ داری ہے کہ محمد بن سلمان نے بار بار اہل حدیث کا نام لیا ہے ، انہیں گمراہ ،غلط اور قرآن کا دشمن کہا ہے ۔ اس کے اسی انٹرویو کے دوسرے حصے میں صاف کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے قوانین میں آئندہ حدیث نہیں صرف قرآن ماخذ ہوگا ۔ سعودی عرب میں تو حقیقی علما کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ،لیکن پاکستان کے آزاد علما ء ریالوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتے ؟ سوچئے کہ یہ دین کی بقاء کا تقاضہ ہے ۔ سوچئے کہ یہ حدیث رسول ۖ کی عزت کا سوال ہے ۔



  تازہ ترین   
ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیدی: اسحاق ڈار
30 واں روز: ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی، ایف 16 طیارہ گرانے کا دعویٰ
3500 اضافی امریکی میرین مشرق وسطیٰ پہنچ گئے: سینیٹ کام کی تصدیق
امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ تحریک کا آغاز، لاکھوں افراد سڑکوں پر
پاکستان سے تمام مسائل افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں: افغان وزیر خارجہ
پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد میں ملاقات کریں گے
ایران کے راستے برآمدات: بینک گارنٹی اور کریڈٹ لیٹر کی شرط عارضی معطل
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر