اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)آزاد کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی اور وزرا کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد مظفر آباد میں مظاہرین انٹری پوائنٹ برارکوٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔ پونچھ ڈویژن میں میں مظاہرین نے کوہالہ انٹری پوائنٹ اور پلندری میں ڈھلکوٹ کے انٹری پوائنٹ کو بند کردیا۔عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کا کہنا ہے کہ کل مزید مشاورت کی جائے گی اور کل اسمبلی کے گھیراؤ کی کال بھی دے سکتے ہیں۔دوسری جانب وزیر اطلاعات آزادکشمیر پپرمظہرسعید کا کہنا تھاکہ حکومت نے تمام قیدی رہا کردیے۔انہوں نے بتایاکہ صدارتی آرڈیننس پرمذاکرات ناکام نہیں ہوئے، ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں تمام مکاتب فکرکےلوگ ہیں اور صدارتی آرڈیننس پرکمیٹی کی سفارشات پرعمل کریں گے۔یاد رہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے ایک ماہ قبل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے احتجاجی جلسے، جلوس اور مظاہروں پر پابندی لگائی تھی، صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔3 دسمبر کو آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے حکومت کا متنازع صدارتی آرڈیننس معطل کردیا تھا۔
آزادکشمیر میں صدارتی آرڈیننس پر مذاکرات ناکام، عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ شروع



