چینی ٹرالرزنے مون سون سے بچنے کے لئے گوادر بندر گاہ پر پناہ لی

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) چینی ٹرالرز نے بحر ہند کے مون سون سے بچنے کیلئے وہاں پڑائو ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے جس کو بھارتی میڈیا نے پاکستان میں ماہی گیری کے وسائل پر قبضہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔ گوادر پرو کے مطابق یہ تمام الزامات بے بنیاد اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں کراچی میں چین کے قونصل خانے کے مطابق گوادر میں لنگر انداز ہونے والے نے پانچ چینی مچھلی پکڑنے والے ٹرالر نے 27 مئی کو بحر ہند میں مون سون سے بچنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر پناہ لینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ مذکورہ چینی جہاز گوادر بندرگاہ سے صرف 5 میل کے فاصلے پر تھے اور ا انہوں نے 4 جون کو پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے)، ماڈل کسٹم کلکٹریٹ گوادر (ایم سی سی گوادر)، گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) اور بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ جیسے تمام متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے۔کراچی میں چینی قونصلیٹ جنرل کے مطابق یہ چینی ٹرالرز گوادر پورٹ پر رکنا چاہیں گے تاکہ مشینوں کی دیکھ بھال ، اسٹاک وغیرہ کو بحال کیا جاسکے۔ مون سون سے پناہ لینے والے چینی عملے نے گوادر پرو کو بتایا کہ ماہی گیری کشتی نومبر 2020 کے آخر میں بحر ہند کے بین الاقوامی پانیوں میں ماہی گیری کے لئے پہنچی۔ چونکہ اس سال مئی کے وسط میں بحر ہند کے شمالی حصے میں جنوب مغربی ہو ائیں تیز تھیں تو اس بحری بیڑ ے نے ہوا سے بچنے کے لئے پاکستان کی سمندر ی حدود میں داخل ہونا شروع کر دیا ماہی گیری کے گرانڈ میں جہاں ہمارا بیڑا چلتا ہے ، ہوا کا جھونکا ہر دن 7-8 کی سطح تک جاسکتا ہے ،سمندری لہریں 2.5-3.6 میٹر تک جا سکتی ہیں۔ اور اس میں 1-1.8 میٹر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ایسے حالات میں، ماہی گیری کشتیاں خوفناک طور پر کانپتی ہیں ، جو سیفٹی کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ لاحق ہے، ’’عملے کا کہنا ہے کہ ماہی گیری کے دو جہازوں کے انجن خراب ہو نے کے بعد انھیں جلد سے جلد پناہ حاصل کرنا پڑی۔ گوادر بندر گاہ ہمار ے فیشنگ گرائونڈکے قریب ترین ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان ہمارا آہنی بھائی ہے، اسی وجہ سے ہم نے گوادر پورٹ کا رخ کیا۔ چینی فشری کمپنی کے مطابق وہ پاکستانی پانیوں میں قیام کے دوران ان کے پاس بین الاقوامی پانی کے قواعد و ضوابط سے متعلق مکمل عمل کیا اور غیر قانونی، غیر اطلاع یافتہ اور غیر منظم (IUU) ماہی گیری نہیں کی ۔ 11 جون کو پاکستانی میڈیا آزادی نیوز نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں ان چینی ماہی گیری کشتیوں کو گوادر بندرگاہ کی طرف جاتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ چینی ماہی گیری کشتیاں بلوچستان کے ماہی گیری کے وسائل کو لوٹتی ہیں۔ 13 جون کو، ہندوستان کی ایشین نیوز ایجنسی (اے این آئی) نے اس خبر کو ایک مسئلہ بنایا اور گوادر میں چینی ماہی گیر کشتیاں الزم کا نشانہ بنی رہی جو بلوچستان کے عوام کے وسائل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اور پاکستان کے انگریزی اخبار نے فالو اپ رپورٹ جاری کی۔



  تازہ ترین   
ایران سے جنگ بندی برقرار، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج، تیل نہیں بیچ سکے گا: ٹرمپ
ٹرمپ دوبارہ جنگ نہیں کریں گے، اشتعال انگیز بیانات پسپائی کے عکاس ہیں: اکانومسٹ
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 5000 سے زائد پوائنٹس کی کمی
امریکا خود کو آقا سمجھنا چھوڑ دے تو معاہدے کی راہیں کھل سکتی ہیں: ایرانی صدر
آسٹریلیا کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کی کمان خاتون جنرل کے سپرد
نام نہاد ناکہ بندی کے بعد جلد آپ 4 سے 5 ڈالر والے پٹرول کو یاد کریں گے: ایران
اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا، امریکا کا سخت رویہ رکاوٹ بنا: عباس عراقچی
امید ہے امریکا، ایران امن کیلئے بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر