کوئٹہ ( نیشنل ٹائمز ) صوبہ بلوچستان کے علاقہ موسیٰ خیل میں گاڑیوں سے اتار کر شناخت کے بعد 23 افراد کو قتل کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی نے بتایا کہ تمام افراد کو ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگا کر مسافروں کو بسوں سے اتارا، مسلح افراد نے 10 گاڑیوں کو بھی آگ لگادی، واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور لیویز اہلکارون نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا جب کہ واقعے کی مزید تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا گیا۔
ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ موسیٰ خیل کا علاقہ ڈیرہ غازی خان سے ملتا ہے اور چھوٹی شاہراؤں پر عام طور پر اتنی زیادہ سکیورٹی نہیں ہوتی، دہشت گردوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسافروں کو قتل کیا، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے موسیٰ خیل کےقریب دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا ہے۔
گزشتہ روز بلوچستان میں ہی ایران سے واپس آنے والے زائرین کی بس کھائی میں گرنے 11 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، زائرین کی بس کو حادثہ مکران کوسٹل ہائی وے پر بزی ٹاپ کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتاری کے باعث بریک فیل ہونے کی وجہ سے بس کھائی میں گرگئی، حادثے میں 11 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، زخمیوں اور جاں بحق افراد کی میتوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، لیویز سمیت دیگر ادارے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، زائرئن کی یہ بس ایران سے پنجاب جارہی تھی، زائرین کا تعلق پنجاب کے علاقے لاہور اور گوجرانوالہ سے تھا۔



