اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نئے توشہ خانہ ریفرنس سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے نئے تو شہ خانہ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں کی. دوران سماعت عمران خان اور بشری بی بی کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جیل سے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، عمران خان کی جانب سے سلمان صفدر جبکہ نیب کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون، پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے.
نیب حکام نے موقف اپنایا کہ عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں ہاتھ سے لکھا ہوا بیان تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے جبکہ بشری بی بی کا تحریری بیان بھی نیب ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے نیب کی جانب سے دونوں ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا نہیں کی گئی جس پر عدالت نے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان اور بشری بی بی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا بعد ازاں عدالت نے نئے توشہ خانہ کیس میں دونوں ملزمان کو 2 ستمبر کو عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا.
یاد رہے کہ 8 اگست کو سماعت کے دوران احتساب عدالت اسلام آباد نے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 11 روز کی توسیع کی تھی 13 جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے.
وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کے لیے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کیا تھا، نوٹیفکیشن نیب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 16 بی کے تحت جاری کیا گیا اس میں بتایا گیا کہ امن امان کی صورت حال کے پیش نظر نیب عدالت اگر ضروری سمجھتی ہے تو عمران خان اور بشری بی بی کا ٹرائل جیل میں کرے.



