اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 6 اگر چلانا چاہیں تو کوشش کرکے اپنی خواہش پوری کرلیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق صدر عارف علوی عمران خان کے کیس کی سماعت سننے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے جہاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان جلد باہر آئیں گے۔
اس موقع پر ان سے سوال ہوا کہ ’آپ نے جس انداز سے اسمبلی تحلیل کی اس پر آرٹیکل 6 لگانے کا کہا جا رہا ہے، آپ کیا آرٹیکل 6 کی کاروائی کے لئے تیار ہیں؟‘، اس سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ ’آرٹیکل 6 اگر چلانا چاہیں تو کوشش کر لیں، اپنی خواہش پوری کر لیں، یہ 1500 دیگر کیسز چلا چکے ہیں مزید بھی کیس بنا دیں، مجھے بھی موقع ملے گا، میں زندہ بھی اسی ملک میں ہوں اور پاکستان میں ہی رہوں گا، آرٹیکل 6 کیا ہے، زندگی اور موت کی جنگ میں بھی یہیں ہوں‘۔
اس دوران عارف علوی سے پوچھا گیا کہ ’چیف جسٹس آف پاکستان نے آپ کا نام لے کر کہا کہ 90 دن میں الیکشن تاریخ نہ دے سکے، اس پر کیا کہیں گے؟‘، سابق صدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے بھی قاضی فائز عسیٰ کے بارے میں بہت کہا ہے، اس کی بھی اہمیت قاضی فائزعیسٰی کو ہونی چاہیئے‘۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس چلایا جائے، ان تینوں اشخاص کے خلاف وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک دشمن قوتوں کو تقویت دی ہے، ان معاملات میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اور سابق صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے وفاقی وزیر عطا تارڑ کو جواب دینے کے لیے مشتاق احمد یوسفی کا قول پوسٹ کیا، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے، بلخصوص آج کی ایک پریس کانفرنس کے بعد مشتاق احمد یوسفی صاحب مرحوم بہت یاد آئے، کچھ دوستوں کی وجہ سے اُن سے ایک نیاز مندی تھی اور کراچی میں ہر چند ماہ بعد کھچڑی کی دعوت پر ضرور ملاقات ہوتی تھی، مشتاق احمد یوسفی اپنے ایک دوست مرزا سے کہتے تھے کہ “میاں تم باتیں تو آدمیوں جیسی کرتے ہو لیکن بخدا جذبات تمہارے گھوڑے جیسے ہیں”، اس میں عقل کا ذکر نہیں ہے ورنہ وہ کسی اور جانور سے بھی تشبیح دے سکتے تھے۔



