اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) مسلم لیگ ن کے رہنماء سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے کیس میں اگر ججز کے خلاف ثبوت ہوئے تو حکومت اپنا کردار ادا کرے گی۔ مختلف ٹی وی انٹرویوز میں انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کا ہاتھ رہا ہے، باجوہ کی مرضی کے بغیر جنرل فیض بڑے بڑے اقدامات نہیں کر سکتے تھے، میاں نواز شریف نے گوجرانوالہ جلسے میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض کا نام لیا تو ان کو فیض حمید کی جانب سے پیغامات بھیجے گئے آپ میرا نام نہ لیں مجھے تو جو کہا جاتا ہے وہ میں کرتا ہوں جب کہ دوسری جانب جنرل باجوہ کے پیغامات آتے کے یہ وہ خود کررہا ہے۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید نے بلواسطہ رابطے کیے اور مارشل لاء کا بھی ذکر کیا تو اس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ بہت سے مارشل لاء بھگت لیے ایک اور بھگت لیں گے لیکن ہم کسی دھمکی میں نہیں آئیں گے لیکن اب مسلم لیگ ن قمر جاوید باجوہ سمیت کسی کے احتساب کا مطالبہ نہیں کرے گی کیوں کہ ہم معاملے کو بکھیرنا نہیں چاہتے کیوں کہ اگر فہرست نکلے گی تو کہانی بکھرے گی، ایسے شخص کا احتساب ہو رہا ہے جس نے اپنے یونیفارم اور ادارے کی توہین کی تو یہ ایک اچھی مثال ہو گی۔
عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ یونیفارم کے اندر تو فیض حمید کے کارناموں کی ایک طویل داستان ہے وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں، فیض حمید کو اب بتانا چاہیے کہ وہ یونیفارم اترنے کے بعد کیا کچھ کرتے رہے ہیں، اس پوری کہانی کو اب کھلنا چاہیے، نو مئی آرمی چیف کو ہٹانے کی سازش تھی، نواز شریف کو نکالنے میں فیض حمید ہی نہیں جنرل ظہیرالاسلام کا دور بھی شامل ہے، فیض حمید نے جسٹس شوکت صدیقی پر نواز شریف کو سزا دینے کیلئے دباؤ ڈالا، تحقیقات میں اگر ججز کے خلاف ثبوت سامنے آئے تو پھر حکومت بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔



