اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء علی محمد خان نے کہا ہے کہ ستمبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ کورکمیٹی اور عمران خان نے نہیں کیا، لانگ مارچ کب اور کہاں کرنا ہے فیصلہ عمران خان کریں گے۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض سے پیشہ ورانہ تعلق رہا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ حکومت ختم ہونے کے بعد ان کا کوئی کردار تھا، میں کورکمیٹی میں بیٹھتا ہوں میرے علم میں کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی کہ وہ پی ٹی آئی میں سیاسی کردار کررہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ فیض حمید پر کرپشن کیس ہے، یہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے، اور ادارہ اپنے احتساب کررہا ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ ستمبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ کورکمیٹی اور عمران خان نے نہیں کیا، لانگ مارچ کب اور کہاں کرنا ہے فیصلہ عمران خان کریں گے۔
حماد اظہر کو اگر تحفظات ہیں تو عمران خان ضرور دیکھیں گے، میں سمجھتا ہوں استعفا دینے کی بجائے لڑائی پارٹی کے اندر لڑی جانی چاہیے۔
انہون نے کہا کہ مجھے آج عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا، میرے پاس چیف جسٹس ہائیکورٹ کا حکم نامہ تھا، لیکن کیوں ملنے نہیں دیا گیا پتا نہیں؟ اڈیالہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کسی کو سہولت نہیں دے سکتا۔ وہاں انسانی کیمرے بھی ہیں اور مشینی کیمرے بھی ہوتے ہیں۔ مزید برآں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے قانون کے مطابق ملاقات ہونی تھی جو نہیں ہونے دی گئی، اس معاملے کو ہاوس آف دی فلور پر اٹھاؤں گا۔
اڈیالہ جیل کے باہر شبلی فراز کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے عمر ایوب نے کہا کہ ہم سیاسی ورکرز ہیں، میں نیشنل اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہوں، کس قانون کے تحت ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روکا گیا نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کے لیے 45 لوگ آتے تھے، وزیراعظم، وزیراعلیٰ مریم نواز، محسن نقوی اور آئی جی پنجاب کو لائن حاضر کریں گے، جیل انتظامیہ کے رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 13 اگست کو جس طرح لوگ حقیقی آزادی کے لیے نکلے انہیں سلام پیش کرتا ہوں، 13 اگست کو نکلنے والے ہمارے کارکنان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہوا قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔



