راولپنڈی(نیشنل ٹائمز) بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جنرل فیض کی گرفتاری کو فوج کا اندرونی معاملہ قرار دیدیا،پی ٹی آئی کا جنرل فیض کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں، یہ بات بالکل واضح ہے جنرل فیض سے ان کا کوئی سیاسی تعلق نہیں تھا، جنرل باجوہ نے نواز شریف سے ڈیل کرکے جنرل فیض کو تبدیل کیا تھا،اڈیالہ جیل راولپنڈی میں وکلاء نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکیل انتظار پنجوتھہ نے دیگر وکلاءکے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے وکلاءٹیم کی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ۔
عمران خان کا ملاقات میں کہنا تھا کہ اگر جنرل فیض کی گرفتاری کا تعلق نو مئی سے ہے اور ان کا نو مئی میں کوئی کردار ہے تو یہ بہت اچھا موقع ہے اس کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائی جائیں۔
جنرل فیض کی گرفتاری فوج کا اندرونی معاملہ ہے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔انتظار پنجوتھہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہاہے کہ سپریم کورٹ پر دباو¿ ڈالا جارہا ہے۔
نوجوانوں کی امید ختم ہورہی ہے، بنگلہ دیش سے برے حالات پاکستان میں ہیں، ارباب اختیار ہوش کے ناخن لیں، قاضی فائز عیسیٰ کو اب پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ ہماری تین نشستیں کل چھینی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے آج رات پرامن طریقے سے نکلنے کی کال دی ہے اور کہا ہے عوام آزادی کی خاطر آج گھروں سے نکلیں یہ وقت ہے ملک کی خاطر نکلنا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روزپاک فوج نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیکر ان کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، ٹاپ سٹی کیس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف شکایات کی تفصیلی تحقیقات کیں تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیاتھا۔ ان پر ریٹائرمنٹ کے بعد متعدد مواقع پر پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات بھی ثابت ہوئے تھے۔اس حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا جا چکا ہے اور انہیں فوجی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے تھے۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں کی گئی ہے اور اس کا مقصد فوجی قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانا تھا۔



