جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق کے تاثر کو مسترد کرتے ہیں

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ جنرل ر فیض حمیدکے پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق کے تاثر کو مسترد کرتے ہیں، عمران خان کابطور وزیراعظم ان کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق تھا،فیض حمید کے خلاف کاروائی ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن آئندہ حکومتوں اور سربراہان کیلئے یہ راستے کھل گئے ہیں۔
انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض حمید کا پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق کے تاثر کو مسترد کرتے ہیں، ان کے ساتھ ایک پیشہ ورانہ تعلق تھا، عمران خان وزیراعظم تھے اور وہ ڈی جی آئی تھے، بالکل ویسے ہی جیسے آج شہبازشریف وزیراعظم ہیں، اور بڑی خوشی کے ساتھ افسران کے خلاف تصاویر بنواتے ہیں، ہر وزیراعظم کا افسر کے ساتھ تعلق ہوتا ہے، اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھا، میری سمجھ سے بالاتر ہے کیوں تاثر بنایا جارہا ہے، عمران خان جیل میں اور باہر ہماری لیڈرشپ کے ساتھ کیا ہورہا ہے، میں فیض حمید سے متعلق تاثر کو مسترد کرتا ہوں۔

فیض حمید کے خلاف کاروائی ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن آنے والے وقت میں حکومتوں کیلئے اور سربراہان کیلئے یہ راستے کھلیں گے، مطلب یہ راستہ کھل گیا ہے۔ ہمیں کوئی ہدایات نہیں دے سکتا، ہمیں ہدایات صرف بانی پی ٹی آئی دیتے ہیں۔ مزید برآں پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء طلال چودھری نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 75سال الٹی گنگا بہتی رہی، پہلی بار ادارہ جاتی احتساب نظر آیا ہے، پہلے کبھی کسی افسر کے خلاف کاروائی ہوتی تھی تو ادارہ خود سامنے آجاتا تھا ، کاروائی پارلیمنٹ عدالتوں یا کسی سول ادارے کو نہیں کرنے دیتا تھا۔
اب کاروائی کا مطلب ہے کہ ادارے کو کوئی بھی ثبوت ملے گا تو کاروائی کی جائے گی، پریس ریلیز میں ریٹائرمنٹ کے بعد کا بھی لکھا گیا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد اگر کاروائی ہورہی ہے تو اس کے پہلے ثبوت سامنے آئیں گے تو اس پر بھی کاروائی کریں گے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیئے۔نوازشریف کی طرف سے کوئی خاموشی نہیں بلکہ خاموشی نوازشریف نے ہی توڑی تھی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام لینے کی جرات نوازشریف نے کی تھی، کسی ذارئع سے خبر نہیں چلی تھی، کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ بھرے جلسے میں نام لئے تھے۔
ادارے کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کیا تھا، ان افراد کے نام لئے تھے، پھر ان ناموں کو پوری جماعت دہراتی رہی تھی۔ پی ٹی آئی والوں کو بیان دینے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کل پتا نہیں فیض حمید کیا کیا بتا دیں گے، پھر شرمندگی ہوگی، کس کو نہیں پتا کہ وہ عمران خان کے کتنے پسندیدہ تھے۔ آرمی چیف بنانے سے لے کر 10سالہ حکومتی پلان پتا نہیں کیا کرنا چاہتے تھے، عمل دخل اتنا تھا کہ وزیرمشیر بنانے سے لے کر عہدے ٹکٹوں کے فیصلے وہی کرتے تھے، میرا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو تسلیم کرنا چاہیے ہر آدمی کو استعمال کرنے کے بعدجب مشکل میں ہوچھوڑنہیں دینا چاہیئے۔اگر اچھے وقت کا ساتھی تھا تو اب بھی ساتھ کھڑے ہوں ، اب کہتے ہمارا پیشہ ورانہ تعلق تھا۔



  تازہ ترین   
سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول
آئی ایم ایف کا وفد وزارت خزانہ پہنچ گیا، بجٹ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز
ایران خود کوٹھیک کرلے ورنہ ہم کام مکمل کرینگے، ٹرمپ دورہ چین پر روانہ
امریکی و اماراتی صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو
ایران کا امریکا کیخلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر
دنیا بربریت، تسلط مسترد کرتی ہے تو ایران کیلئے آواز بلند کرے: اسماعیل بقائی
خلیجی ریاستوں کے تحفظ کیلئے حمایت جاری رہے گی، سعودی کابینہ
امریکی ٹی وی کی ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبر گمراہ کن ہے: دفتر خارجہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر