لاہور(نیشنل ٹائمز)انسداد دہشتگردی لاہور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف 9مئی کے 12مقدمات میں شہادتوں کافرانزک کرانے کی درخواستیں دائر ،عدالت کے ڈیوٹی جج عرفان حیدر نے سماعت کی، مقدمات کے تفتیشی افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے،تفتیشی افسروں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ویڈیوز اور موبائل فون کا فرانزک کرنا ہے۔
فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ اور وائس میچ ٹیسٹ بھی کرانا ہے۔تفتیشی افسروں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کے دوران یہ فرانزک ٹیسٹ نہیں ہو سکے، فاضل جج نے کہا کہ میں ان درخواستوں پر سماعت کر سکتا ہوں نہ فیصلہ دے سکتا ہوں، عمران خان کا جسمانی ریمانڈ ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ آپ کو مشورہ ہے آپ سپریم کورٹ چلے جائیں یا آپ ایڈمن جج کی تعطیلات ختم ہونے کا انتظار کریں، میں ڈیوٹی جج ہوں، ان درخواستوں کو نہیں سن سکتا ہوں، ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ میری نظر میں قابل سماعت نہیں رہا۔
تفتیشی افسران عدالت سے مایوس لوٹ گئے، انہوں نے کہا کہ اب ستمبر میں ایڈمن جج کے پاس دوبارہ درخواستیں دائر کریں گے۔بعدازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ لاہو رہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی تھی۔
درخواست میں نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور پولیس کو فریق بنایا گیا تھا۔عمران خان کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھاکہ مجھے تمام مقدمات میں ضمانت ملنے پر رہائی کے قریب نیب نے دوبارہ گرفتار کر لیا۔درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ درج تمام مقدمات، انکوائریز اور نظر بندی کے احکامات طلب کرے۔عدالت عالیہ متعلقہ عدالت سے رجوع سے پہلے کسی بھی نئے مقدمے میں گرفتاری روکنے کا حکم دے۔بعدازاں عدالت نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کیلئے درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی تھی۔



