واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ ڈالر سے زائد امداد کی درخواست کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے معاون سیکریٹری خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ڈونلڈ لُو نے امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں انہوں نے کہا کہ صدر بائیڈن نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد کی استدعا کی ہے، یہ رقم پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، اقتصادی اصلاحات اور قرض کے حوالے سے مدد دینے کے لیے بروئے کار لائی جائے گی، اس امدادی رقم سے پاکستان کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈونلد لُو نے کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی کی صورتِ حال پر ہم متوجہ ہیں اور اُس کی مدد بھی کر رہے ہیں، تاہم افغانستان میں خواتین اور اقلیتی گروہوں کی صورتحال پرتشویش ہے، جب تک افغانوں کے حقوق کا احترام نہیں کیا جائے گا طالبان حکومت سے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے، طالبان حکومت تمام امریکی شہریوں کو رہا کرے۔
بتایا جارہا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے امریکہ سے چھوٹے ہتھیاروں کی شکل میں امداد کی استدعا کی تھی، واشنگٹن کے تھنک ٹینک ولسن سینٹر میں امریکی پالیسی سازوں، اسکالرز، دانشوروں، اور کارپوریٹ رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا قلع قمع کرنے کے لیے آپریشن عزمِ استحکم کا آغاز کیا ہے، اس کے لیے ہمیں جدید ترین چھوٹے ہتھیاروں اور مواصلاتی آلات کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا، انہوں نے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان امریکی شہریوں کے نام خط میں کیا، جس میں جو بائیڈن نے لکھا کہ آپ کا صدر بننا میرے لیے بڑے فخر کی بات تھا، میری خواہش تھی کہ دوبارہ صدارتی انتخابات لڑوں لیکن پارٹی اور ملک کے بہترین مفاد میں دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے، قوم سے اس ہفتے خطاب کروں گا۔



