تل ابیب(نیشنل ٹائمز)غزہ پر گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ہونے والی اسرائیلی فوج کی بمباری میں کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جس کے ملبے تلے اب بھی درجنوں افراد دبے ہوئے ہیں،عالمیمیڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے متعدد علاقوں میں رہائشی علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ وحشیانہ بمباری میں تباہ ہونے والے عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ملنے کا جاری ہے،فلسطین اتھارٹی کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری میں 64افراد شہید اور 105زخمی ہیں۔ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے،بیان میں کہا گیا ہے کہ تباہ حال عمارتوں کے ملبے تلے اب ابھی درجنوں افراد دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،بمباری میں رہائشی عمارتوں کے تباہ ہو جانے پر مکینوں کی بڑی تعداد سڑک کنارے رات گزارنے پر مجبور ہے جنھیں صبح ہونے کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا،خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اس وقت جب ایک روز قبل ہی عالمی عدالت انصاف نے اس کے جارحیت اور قبضے کے خلاف فیصلہ دیا ہے،غزہ پر 7اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں 39ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 90ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری میں 64فلسطینی شہید،105زخمی



