اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے الیکشن 2024 پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کو جزوی نہیں مکمل تسلیم کرنا پڑےگا، سپریم کورٹ سے استدعاہے پورے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی کیا حیثیت رہ گئی ؟ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تمام افراد کو خود ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ اب ان کا اپنے عہدوں پر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
ہمارا اعتماد پارلیمانی نظام سے اٹھ گیا ہے۔میرا سوال ان سے ہے جنہوں نے کہا ہم اسمبلی میں نہیں جائیں گے۔
فارم 45 کے بجائے فارم 47 اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ اس فیصلے سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے۔ ایم کیو ایم کو کراچی سے ایک لاکھ ووٹ بھی نہیں پڑا ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی ڈائریکشن کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔
حق دو عوام کو تحریک پورے پاکستان میں شروع ہوچکی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام کل ملک بھر میں احتجاج کئے جائیں گے۔ملک میں مڈل کلاس کو تباہ کیا جارہاہے۔عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے، ایم کیو ایم کو کراچی سے قومی اسمبلی کی 15 نشستیں دےدی گئیں۔ سننے میں آرہا ہے کہ حکومت اب مزید پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر یہ اخراجات کو کم نہیں کریں گے۔ 200یونٹ تک ریلیف دے رہے ہیں لیکن 201 یونٹ والے کا کیا قصور ہے۔



