اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کے مترادف ہے ، سنی اتحاد کونسل نے جو درخواست کی وہ تسلیم نہیں کی گئی، ایک نیا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آگیا ہے جو انہوں نے آج تک کلیم ہی نہیں کیا ،انصاف صرف ہوتا نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل تو بنتی ہے،یہ فیصلہ آئین و قانون کے تقاضے کو پورا نہیں کرتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے جو سمجھ سے بالاتر ہوں اور ایسے ابہام کو جنم دے جس سے لوگ بھی کنفیوژ ہوں تو ایسے فیصلے ملک کے مفاد میں نہیں ہوتے، جو فریق عدالت کے سامنے ہو اور جو ریلیف مانگا جا رہا تھا اور انہی کے کائو نٹر دلائل دوسری طرف سے پیش کیے جارہے ہوں اور اس استدعا سے پرے بن مانگیں فیصلے دیے جائیں تو ان کے نتائج انتہائی افسوسناک ہوتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہونا چاہے اور ہوتا ہوا نظر آنا چاہے، عدالتی فیصلے عام فہم ہونے چاہئیں اور سمجھ میں آئیں، عام آدمی کو ان فیصلوں سے تحفظ کا احساس ہو کہ عدالتیں انصاف کررہی ہیں ایسے فیصلے جو سمجھ سے بالا تر ہوں جو ابہام پیدا کریں وہ فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ایک فیصلہ آیا تھا جس میں بن مانگے آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا گیا تھا تو اس کو ملک نے کئی برسوں بھگتا، جب سیاسی نشان گیا تو ان لوگوں کے پاس ٹائم تھا کہ وہ اپنی جماعت کا انتخاب کرتے اور انہوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کی، سنی اتحاد نے دعوی کیا کہ اتنے لوگوں کے حساب سے ہمارا مخصوص نشستوں کا حصہ بنتا ہے جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ نے تو الیکشن ہی نہیں لڑا، سیٹیں کیسے مانگ رہے ہیں اور ان کی استدعا کو رد کردیا۔ بعد ازاں سنی اتحاد کونسل پشاور ہائیکورٹ گئی اور انہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس فیصلے کو جماعت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔رانا ثنا ء اللہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سنی اتحاد کے حق میں نہیں آیا، پٹشنر کی طرف سے دلائل دیے گئے، لیکن ان کی استدعا خارج ہوگئی اور اب ایک نیا فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آگیا کہ یہ لوگ تو تحریک انصاف کے لوگ تھے، پی ٹی آئی نے اسے کلیم نہیں کیا، ان میں سے 49 لوگوں نے کسی فارم میں لکھا کہ ہمارا تعلق پی ٹی آئی سے ہے تو ان 49 کو تو سمجھے نا کہ یہ تو پکے تحریک انصاف کے ٹکٹ سے ہی منتخب ہوئے ہیں، اگر یہاں تک کی بات ہوتی تو ٹھیک تھا، باقی 41 کا کیا کیا جائے؟ ان سے دوبارہ پوچھا جائے تو ان سے دوبارہ کیوں پوچھا جائے؟ان کا کہنا تھا کہ اگر ان 41 سے پوچھنا ہے تو جو باقی بیٹھے ہیں اسمبلی میں ان سے بھی پوچھا جائے، یہ موقع سب کو دے دیں تو سب ہی نئے سرے سے اپنے بیان حلفی داخل کرائیں، ہمارے ججز بہترین ہیں لیکن جو حلف انہوں نے اٹھایا وہ آئین کے تحفظ کا ہے، اس کا تحفظ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سنی اتحاد کونسل کے حق میں نہیں آیا، سنی اتحاد کونسل نے جو درخواست کی وہ تسلیم نہیں کی گئی، ایک نیا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آگیا ہے جو انہوں نے آج تک کلیم ہی نہیں کیا یہ آئین کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کی گئی ہے عدالت عظمی کا احترام ہے لیکن انہوں نے جو حلف اٹھایا وہ آئین کے تحفظ کا حلف ہے آئین کو دوبارہ سے لکھنا میری سمجھ کے مطابق تحفظ سے میل نہیں کھاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کا فیصلہ آرٹیکل 63 سے متعلق بھی آیا تھا جس پر تمام قانون دانوں نے کہا یہ آئین کو دوبارہ لکھنے کی کوشش ہے۔ مشیر وزیر اعظم کا کہنا تھا ہمیں عدالت عظمی کا بے پناہ احترام ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل تو بنتی ہے،یہ فیصلہ آئین و قانون کے تقاضے کو پورا نہیں کرتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل تو بنتی ہے، فیصلہ آئین و قانون کے تقاضے کو پورا نہیں کرتا، راناثناء اللہ



