تہران (شِنہوا) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آبی گزرگاہ کے جنوب میں واقع ایک غیر قانونی اور غیر مجاز راستے سے گزرتے ہوئے گزشتہ رات دو الگ الگ واقعات میں دو سپر ٹینکرز سمیت تین بحری جہازوں میں آگ لگ گئی۔
آئی آر جی سی نے اپنے سرکاری میڈیا ادارے سپاہ نیوز پر جاری ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ایک واقعہ میں ایک تیل بردار جہاز غیر قانونی راستے سے گزرتے ہوئے سمندری سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسرے واقعے میں ایک اور تیل بردار جہاز جو اسی راستے سے آبنائے ہرمز سے نکل رہا تھا آبی گزرگاہ کے مشرق میں آگ لگنے کے بعد رک گیا جبکہ آگ پر قابو پانے کے لئے جہاز کے قریب جانے والی ایک مددگار کشتی میں بھی آگ لگ گئی۔
آئی آر جی سی نے کہا کہ ایک الگ کارروائی میں اس کے بحری برقیاتی جنگی یونٹ کے اہلکاروں نے حملہ آور اور کم لاگت کے دو بغیر پائلٹ جنگی ڈرونز کا کنٹرول حاصل کر کے انہیں بغیر کسی نقصان کے زمین پر اتار لیا۔
آئی آر جی سی نے امریکی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بحری جہازوں کو اکسا کر قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور آبنائے ہرمز میں سرنگوں سے بھرے راستے سے گزرنے پر مجبور کر کے امریکی ٹیکس دہندگان اور مغربی ایشیا میں اپنے اتحادیوں پر انتہائی بھاری بیمہ اخراجات کا بوجھ ڈال رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں غیر قانونی راستے سے گزرنے والے 3 بحری جہازوں میں آگ لگ گئی،ایران



