بیجنگ (شِنہوا) رواں سال 2026 کی پہلی 3سہ ماہیوں کے دوران چین میں سونے کی کھپت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 0.28 فیصد اضافے کے ساتھ 684.623 ٹن رہی، جس کی بنیادی وجہ سونے کی اینٹوں اور سکوں کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔
چائنہ گولڈ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران سونے کی اینٹوں اور سکوں کی کھپت میں 26.26 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 444.576 ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ سونے کے زیورات کی کھپت 33.86 فیصد کمی کے بعد 178.612 ٹن رہی۔ صنعتی اور دیگر مقاصد کے لئے سونے کا استعمال بھی 1.41 فیصد اضافے کے ساتھ 61.434 ٹن ہو گیا۔
ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز بتایا کہ سرمایہ کاری سے متعلق مصنوعات کی مارکیٹ میں ساختی تبدیلیاں آ رہی ہیں، جہاں ڈیلرشپ کے روایتی نظام کی جگہ براہ راست فروخت کا رجحان بتدریج فروغ پا رہا ہے۔ دوسری جانب زیورات کی مصنوعات میں اضافی قدر بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور مقررہ قیمت والی مصنوعات کا مارکیٹ میں حصہ بڑھ رہا ہے۔
فراہمی کے شعبے میں اس عرصے کے دوران مقامی خام مال سے سونے کی پیداوار میں 18.71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایسوسی ایشن نے اس کمی کی وجہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے اور بعض اہم منصوبوں میں دیکھ بھال کے لئے پیداوار عارضی طور پر بند کئے جانے کو قرار دیا۔
چین کے بڑے گولڈ گروپس کی بیرون ملک پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس عرصے کے دوران ان کی بیرون ملک کانوں سے سونے کی پیداوار 15.77 فیصد اضافے کے ساتھ 71.126 ٹن رہی۔
2026 کی پہلی 3 سہ ماہیوں میں چین نے اپنے سونے کے ذخائر میں مجموعی طور پر 103.26 ٹن کا اضافہ کیا۔ ستمبر کے اختتام تک چین کے سونے کے ذخائر 2,409.59 ٹن ہو گئے، جس کے ساتھ وہ دنیا میں پانچویں نمبر پر رہا۔
چین نے نومبر 2024 سے ستمبر 2026 تک مسلسل 23 ماہ اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا۔
چین میں سونے کی اینٹوں اور سکوں کی طلب میں اضافہ، پہلے 9 ماہ کے دوران سونے کی کھپت بڑھ گئی



