ابوظہبی (شِنہوا) صحرا کی تیز دھوپ میں شمسی توانائی کے پینلز کی قطاریں دور افق تک پھیلی ہوئی ہیں، جبکہ ان کے فولادی ڈھانچوں کے سائے ہلکی زرد ریت پر متوازی لکیریں بناتے دکھائی دیتے ہیں۔
شمسی پینلز کا یہ وسیع سلسلہ ابوظہبی کے شمال مشرقی علاقے میں واقع 1.5 گیگاواٹ صلاحیت کے ابوظہبی پی وی 3 العجبان شمسی توانائی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر میں ایک چینی کمپنی بھی شامل ہے اور یہ بجلی کے قومی نظام سے منسلک ہونے کے قریب ہے۔ یہ منصوبہ کم کاربن توانائی کی جانب منتقلی کو آگے بڑھانے میں چین -یو اے ای کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
منصوبے کے سب سٹیشن کے علاقے میں مختلف سائز کے برقی آلات قطاروں میں نصب ہیں، جبکہ ہیلمٹ اور عکاس جیکٹس پہنے کارکن تعمیراتی کام کے باقی ماندہ مراحل مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔
پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنہ (پاور چائنہ) کے پروجیکٹ منیجر وانگ شن جن نے بتایا کہ تکمیل کے بعد اس شمسی بجلی گھر سے سالانہ 4.4 ارب کلو واٹ آور بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے، جو تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوگی۔
وانگ نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے ہر سال تقریباً 24 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آنے کی توقع ہے، جس سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کو صاف توانائی کی فراہمی بڑھانے اور کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی میں مدد ملے گی۔
تقریباً 20 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا یہ منصوبہ مملکت میں پاورچائنہ کا پہلا بڑے پیمانے کا شمسی توانائی منصوبہ ہے۔ پاورچائنہ کے ادارے ہواڈونگ انجینئرنگ کارپوریشن لمیٹڈ کو اس منصوبے کے ڈیزائن، خریداری اور تعمیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس مقام پر چین میں تیار کردہ شمسی پینلز نصب کرنے والے روبوٹس بھی استعمال کئے جا رہے ہیں، جس سے پینلز کی تنصیب کے عمل میں خودکاری کو فروغ ملا ہے۔
شمسی پینلز سے لے کر جدید تعمیراتی آلات تک، قابل تجدید توانائی کے شعبے میں چین کی پیش رفت کو خلیجی خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تیزی سے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
صحرائی دھوپ سے توانائی کا حصول، چینی کمپنیاں یو اے ای میں صاف توانائی کے فروغ میں معاون



