اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سنٹرل پاور پر چیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے ) نے سال 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی قیمت مقرر کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی توانائی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے سی پی پی اے نے بجلی کی خریداری کے لیے 6 ممکنہ ٹیرف تجویز کیے ہیں جن میں سے کسی ایک کی منظوری دی جائے گی۔ درخواست کے مطابق اگلے سال بھی بجلی صارفین پر بھاری مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے جس کا بڑا حصہ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ہوگا۔سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق اگر بجلی کی خریداری کی قیمت 26 روپے 44 پیسے فی یونٹ مقرر کی جاتی ہے تو سال 2027 میں بجلی کی خریداری پر 3439 ارب روپے خرچ ہوں گے جن میں سے 1914 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے جائیں گے جبکہ بجلی کی پیداوار کی خالص قیمت 1206 ارب روپے ہوگی۔
اس طرح بجلی کی پیداوار کی خالص قیمت کے مقابلے میں 150 فیصد سے زائد رقم کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی جائے گی۔ یہ ادائیگیاں بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود بجلی گھروں کو کی جاتی ہیں اور ان کا بوجھ صارفین سے وصول کیا جائے گا۔درخواست میں آپریشن اینڈ مینٹی ننس کی مد میں 70 ارب روپے سے زائد اور ٹرانسمیشن چارجز کی مد میں 248 ارب روپے سے زائد ادائیگیوں کا تخمینہ بھی دیا گیا ہے ۔ سی پی پی اے نے یکم جنوری 2027 سے بجلی کا نیا ٹیرف مقرر کرنے کی استدعا کی ہے ۔جنوری سے دسمبر 2027 تک آئیڈیل سیناریو کے تحت فی یونٹ بجلی کی خریداری کی قیمت کا تخمینہ 25 روپے 88 پیسے جبکہ خراب ترین سیناریو میں 29 روپے 25 پیسے لگایا گیا ہے ۔ حتمی ٹیرف کے مطابق بجلی کی خریداری کی مجموعی لاگت میں فرق آئے گا۔ نیپرا اتھارٹی 3 نومبر کو درخواست پر سماعت کرے گی۔



