غزہ/رملہ(شِنہوا) فلسطینی حکومت نے بین الاقوامی امدادی پروگراموں میں کٹوتیوں کے سنگین انسانی نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کا غزہ میں غذائی امداد کم کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث ڈبلیو ایف پی کی جانب سے امداد میں کٹوتی سے انسانی امداد کی فراہمی کا تسلسل خطرے میں پڑ گیا ہے، جس سے غزہ کی پٹی میں تقریباً 5 لاکھ افراد کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بیان کے مطابق فلسطین کی وزیر برائے سماجی ترقی سماح حمد نے ڈبلیو ایف پی کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سیکاؤ سے ملاقات کی، جس میں امداد میں کمی کے اثرات اور غزہ و مغربی کنارے میں انسانی ضروریات پوری کرنے کے لئے درکار فنڈز جمع کرنے کی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت نے اقوام متحدہ اور امداد فراہم کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امدادی پروگرام جاری رکھنے کے لئے ضروری فنڈز فراہم کریں۔ اس کے علاوہ اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ سرحدی گزرگاہیں کھولے اور انسانی امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرے۔
فلسطینی حکومت کا غزہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی امداد میں کٹوتی سے انسانی بحران پیدا ہونے کا انتباہ



