بیجنگ (شِنہوا) چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت اور ہارڈ ویئر کے انضمام سے جدید ترین سمارٹ ڈیوائسز مارکیٹ میں لا رہی ہیں جس سے نہ صرف نئی مصنوعات بلکہ بالکل نئی قسم کے آلات متعارف ہو رہے ہیں۔
علی بابا کے چھوین نے حال ہی میں نئی مصنوعات کی ایک سیریز کی رونمائی کی ہے جس میں اے آئی چشموں کے دو ماڈلز اور اے آئی کلپ آن ایئرفونز کا ایک ماڈل شامل ہے۔ ہواوے، زیڈ ٹی ای، ویوو اور بے دو سمیت دیگر سرکردہ ٹیک کمپنیاں بھی نئی سمارٹ مصنوعات کی فراہمی کے لئے کوششیں تیز کر رہی ہیں۔
صنعت کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ نئی مصنوعات کی یہ لہر سمارٹ ڈیوائسز کی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جہاں سمارٹ فونز، پی سیز، سمارٹ چشمے اور پہننے والی ڈیوائسز اے آئی پر مبنی جدید ترقیاقی مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔
چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی (سی اے آئی سی ٹی) کے محقق لیانگ لین جون نے کہا کہ کارکردگی بہتر بنانے کے لئے نیورل پروسیسنگ یونٹس، زیادہ گنجائش والی تیز رفتار سٹوریج اور حساس سینسرز سمارٹ ڈیوائسز کا بنیادی جزو بن رہے ہیں۔
سمارٹ ڈیوائسز محض احکامات پر عمل کرنے والے آلات سے آگے بڑھ کر ایسے ذہین معاونین کی شکل اختیار کر رہی ہیں جو صارف کا مقصد سمجھنے اور خود کار خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
علی بابا کے چھوین کے متعارف کرائے گئے این 1 سیریز کے اے آئی چشموں میں 50 میگا پکسل کا امیجنگ سسٹم موجود ہے اور یہ دن بھر ماحول کے ادراک، ترجمہ، اجلاسوں کے نوٹس تیار کرنے اور آواز کے ذریعے امور انجام دینے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
چین میں مصنوعی ذہانت اور ہارڈ ویئر کے انضمام سے سمارٹ ڈیوائسز میں جدت کا فروغ



