پیانگ یانگ (شِنہوا) سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے کہا ہے کہ جمہوریہ کوریا اور جاپان کی امریکہ کے ساتھ الگ الگ جاری مشترکہ فوجی مشقیں جزیرہ نما کوریا اور باقی شمال مشرقی ایشیا میں جنگ کا نیا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔
کے سی این اے کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ جمہوریہ کوریا کی فوج اور کوریا میں امریکی افواج نے پیر کے روز بڑے پیمانے کی ہوگک مشقوں کا آغاز کیا جو 30 اکتوبر تک جاری رہیں گی، جمہوریہ کوریا نے اعلان کیا ہے کہ ہوگک مشقوں کے دوران بری، بحری اور فضائی شعبوں میں تعاون اور عملی جنگ کی مشق کو مزید تیز کیا جائے گا۔
کے سی این اے نے اس بیان کو ان مشقوں کی جارحانہ اور اشتعال انگیز نوعیت کا کھلا اظہار قرار دیا ہے۔
تبصرے میں جاپان اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی ایک اور بڑے پیمانے کی مشترکہ فوجی مشق پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ کین سوارڈ کے نام سے اس مشق میں جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ اور اس کا بحری جنگی گروپ حصہ لے گا جبکہ امریکہ کا جدید بحری جہاز شکن میزائل نظام این ایم ای ایس آئی ایس پہلی مرتبہ جاپان میں تعینات کیا جائے گا۔
تبصرے میں کہا گیا ہے کہ جمہوریہ کوریا اور جاپان، نیٹو کے ایشیا-پیسفک ورژن کی تشکیل کے مقصد سے واشنگٹن کی پس پردہ منصوبہ بندی کے تحت عوامی جمہوریہ کوریا اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف بالواسطہ جنگ کے لئے صف اول میں کھڑے ہونے جا رہے ہیں۔
تبصرے میں مزید کہا گیا کہ عوامی جمہوریہ کوریا اپنے دفاع کے لئے قابل اعتماد جنگی تدابیر مسلسل بہتر اور مضبوط بنا کر اور ان کا ذمہ دارانہ مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن افواج کو اپنی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا احساس دلاتا رہے گا۔
امریکی شمولیت سے جمہوریہ کوریا اور جاپان کی فوجی مشقیں ’’جنگ کے نئے خطرے‘‘ کا باعث بن رہی ہیں، کے سی این اے



