دوشنبے (شِنہوا) تاجکستان کی ایک ماہر نے کہا ہے کہ چین اور وسطی ایشیاکے ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی ترقی کے لئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
روسی۔تاجک (سلاوونک) یونیورسٹی میں جیو پولیٹیکل علوم کے مرکز کی ڈائریکٹر گویزل میت دینووا نے شِنہوا کوایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران چین اور وسطی ایشیائی ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنایا ہے اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
میت دینووا نے کہا کہ ان کامیابیوں کا ایک اہم ثبوت چین اور وسطی ایشیا کے5 ممالک یعنی قازقستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغزستان اور ترکمانستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہے، جو 2025 میں پہلی بار 100 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ باقاعدہ سیاسی مذاکرات کا سلسلہ قائم ہوا ہے، نقل و حمل کے رابطوں میں توسیع ہوئی، صنعتی اور تکنیکی تعاون کو فروغ ملا ہے اور ماحولیاتی و انسانی ہمدردی سے متعلق امور بھی مشترکہ ترجیحات میں شامل ہو گئے ہیں۔
ماہر نے کہا کہ ’’چین اور وسطی ایشیا کے درمیان گہرے تعلقات شنگھائی تعاون تنظیم کے لئے اپنے تعاون کے ایجنڈے کو وسعت دینے کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ جس کے تحت سلامتی کو اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی، توانائی، ماحولیاتی پائیداری اور انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔‘‘
میت دینووا نے ستمبر میں بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں چینی صدر شی جن پھنگ کے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے اس تنظیم کو ’’اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو فروغ دینے اور عالمی ترقیاتی اقدام پر عملدرآمد کے لئے ایک ترجیحی شعبہ‘‘ قرار دیا تھا۔
چین اور وسطی ایشیا کے درمیان گہرا تعاون ایس سی او کی ترقی کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے، تاجک ماہر



