ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کی وزیراعظم سنائی تاکائیچی کو عہدہ سنبھالنے کے ایک سال مکمل ہونے پر ملک کی فوجی صلاحیتوں میں اضافے، امن پسند آئین میں ترمیم اور جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں متعارف کرانے پر غور کرنے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔ سیاست دانوں، مظاہرین اور جوہری امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور جنگ عظیم دوم کے بعد جاپان کی امن پسند پالیسی کے اصولوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جاپان کے سابق وزیراعظم شی گیرو ایشیبا نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں تاکائیچی کی سیاسی سمت پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاپانی تاریخ، بالخصوص جنگ کے دوران ملک کے کردار سے متعلق حقائق کو دیانت داری سے تسلیم نہ کرنے پر تاکائیچی حکومت اور دائیں بازو کی قوتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بی ایس۔ٹی بی ایس پر نشر ہونے والے پروگرام میں ایشیبا نے کہا کہ جاپان نے ایسی جنگیں شروع کیں جن کے نتیجے میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی ایسا ملک، جو ان تاریخی حقائق کو مکمل طور پر تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہو، مضبوط سفارتی تعلقات قائم کر سکتا ہے؟
ایشیبا نے جاپان کو ’’مضبوط اور خوشحال‘‘ بنانے کے تاکائیچی کے عزم پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگلے سال جاپان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر آ سکتی ہے۔ ان کے بقول اس کا مطلب ہے کہ نام نہاد ’’سنائی نومکس‘‘ ملک میں خوشحالی لانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاکائیچی کی سیاسی حکمت عملی ’’عوام کو خوش نہیں کرے گی۔‘‘
جاپانی شہریوں نے ٹوکیو میں قومی پارلیمان کی عمارت کے سامنے جمع ہو کر حکومت کی جانب سے فوجی قوت میں اضافے اور آئین میں ترمیم کی کوششوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ملک میں امن برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔
جاپانی کمیونسٹ پارٹی کے پالیسی چیف تاکو یامازوئے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے میزائلوں کی مسلسل تنصیب اور مزید جدید ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں سے امن قائم نہیں ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جاپان کی سیاست میں اب دوبارہ عسکریت پسندی کے خطرناک اور بھرپور آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما میزوہو فوکوشیما نے مطالبہ کیا کہ ایوان نمائندگان کو مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ تیار کرنے کا عمل شروع کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے تاکائیچی حکومت کی ان کوششوں پر بھی تنقید کی جن کے تحت متناسب نمائندگی کے ذریعے منتخب ہونے والی نشستوں کی تعداد کم کر کے آئین میں ترمیم کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
پیر کے روز شروع ہونے والی جاپان اور امریکہ کی بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقوں کا حوالہ دیتے ہوئے فوکوشیما نے کہا کہ یہ مشقیں جاپان کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جاپان کو درحقیقت امن کی ضرورت ہے۔
جاپان میں تاکائیچی حکومت کو فوجی قوت میں اضافے اور سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا



