دوشنبے (شِنہوا) چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے کہا ہے کہ چین ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں میں تاجکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہے۔
پیر کے روز تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کے دوران لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے اور بنیادی ڈھانچے، معدنی وسائل کی ماحول دوست ترقی، علاقائی رابطوں اور دیگر شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک مل کر اقتصادی ترقی کے نئے محرکات پیدا کر سکیں۔
انہوں نے تاجکستان کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو انٹیلی جنس کے تبادلے اور معلومات کے اشتراک کو مضبوط بنانا چاہیے، دہشت گردی، علیٰحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین قوتوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنی چاہیے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کا تحفظ کرنا چاہیے۔
چینی وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ تاجکستان میں چینی شہریوں، عملے اور کاروباری اداروں کی سلامتی یقینی بنانے کے لئے تاجکستان مضبوط اقدامات جاری رکھے گا۔
لی چھیانگ اتوار کے روز تاجکستان کے سرکاری دورے اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کی حکومتوں کے سربراہان (وزرائے اعظم) کی کونسل کے 25 ویں اجلاس میں شرکت کے لئے دوشنبے پہنچے تھے۔
تاجک صدر کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا کہ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لئے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرے گا اور ایس سی او کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ، چین۔وسطی ایشیا تعاون کے طریقہ کار اور دیگر کثیرالجہتی فورمز میں بھی تاجکستان کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ 4عالمی انیشی ایٹوز پر فعال طور پر عملدرآمد اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل پر مبنی برادری کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
چینی وزیراعظم نے کہا کہ چین اور تاجکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مستقبل پر مبنی برادری کی تعمیر کے لئے کوششیں آگے بڑھا رہے ہیں۔ رواں سال مئی میں صدر شی اور صدر رحمان کی ملاقات نے دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لئے مزید رہنمائی فراہم کی تھی۔
لی نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ اپنی گہری دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہمیشہ چین۔تاجکستان تعلقات کو تزویراتی اور طویل مدتی تناظر میں دیکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم اور مزید گہرا کرنے، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی مضبوط حمایت کرنے، تعاون کے معیار اور افادیت میں مسلسل بہتری لانے اور جدیدیت کی جانب سفر میں شانہ بشانہ آگے بڑھنے کو تیار ہے۔
چین تاجکستان کے ساتھ ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہے، چینی وزیراعظم



