بشکیک (شِنہوا) غربت کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل ایک کرغز ماہر معاشیات نے کہا ہے کہ غربت کا مکمل خاتمہ حالیہ دہائیوں میں چین کی سب سے اہم سماجی و اقتصادی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو بین الاقوامی سطح پر غربت میں کمی کی کوششوں میں اس کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
کرغزستان کے انٹرنیشنل ہائر سکول آف میڈیسن کے وائس ریکٹر اور معاشیات کے پروفیسر تولون بیک عبدالرؤف نے کہا کہ نسبتاً مختصر عرصے میں کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنے میں چین کی کامیابی نہ صرف سرکاری سماجی امدادی پروگراموں بلکہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی، روزگار کے بہتر مواقع اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور دیہی علاقوں کی ترقی کی بدولت ممکن ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ چین کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ محض فلاحی امداد کی ادائیگی سے غربت کا خاتمہ نہیں ہو سکتا بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ضروری ہیں جن میں لوگ خود روزی کمائیں اور اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجربے کی عالمی سطح پر بے حد اہمیت ہے۔
ماہر معاشیات نے نشاندہی کی کہ یہ بات اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ ایک وسیع آبادی اور نمایاں علاقائی تفریق رکھنے والی قوم میں بھی ایک مستقل معاشی پالیسی لوگوں کا معیار زندگی نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر غربت میں کمی کی کوششوں میں چین کے شاندار کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو اور افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں کے ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے چین سڑکوں، توانائی کے منصوبوں اور صنعتی پلانٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ زراعت کی ترقی میں بھی شامل ہے۔
عبدالرؤف کے مطابق عالمی سطح پر غربت میں کمی کے لئے چین کی کاوشوں کو صرف اس کی سرمایہ کاری کے حجم یا تعمیر کردہ سہولیات کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپا جانا چاہیے کہ یہ تعاون کس حد تک دوسرے ممالک کو معاشی نمو کے اپنے ذرائع پیدا کرنے، روزگار کے مواقع تخلیق کرنے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرغزستان کے لئے یہ بات خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ چین کے ساتھ تعاون سے ہمیں نقل و حمل کی راہداریوں، توانائی کے شعبے، پیداواری صنعتوں اور زراعت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
چین عالمی سطح پر غربت میں کمی کے لئے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، کرغز ماہر معاشیات



