نان ننگ (شِنہوا) دو بار کلک کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ایک روبوٹ کھدائی کرنے والی برقی مشین کے ایک بولٹ پر کسنے کا آلہ نہایت درستگی سے رکھتا ہے اور اسے مضبوطی سے کس دیتا ہے۔ ہر ساڑھے 12 منٹ بعد ایک اور شوخ سبز رنگ کی کھدائی کرنے والی مشین اسمبلی لائن سے باہر نکلتی ہے، جو دنیا بھر کی منڈیوں میں بھیجے جانے کے لئے تیار ہوتی ہے۔
یہ منظر چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار خطے میں واقع لیوگونگ کی جدید ایکسکاویٹر انٹیلی جنٹ فیکٹری کا ہے۔ چین کی معروف مشینری ساز کمپنی گوانگ شی لیوگونگ مشینری کمپنی لمیٹڈ اب برقی مشینری کے 100 سے زائد ماڈل پیش کرتی ہے، جو 60 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں فروخت کئے جاتے ہیں۔
لیوگونگ کا صدر دفتر گوانگ شی کے اندرون ملک صنعتی شہر لیوژو میں واقع ہے۔ گاڑیاں بنانے، فولاد اور مشینری کی صنعتوں میں مضبوط بنیاد رکھنے والا یہ شہر اپنی روایتی صنعتوں کو ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔
لیوگونگ کی کھدائی کرنے والی مشینوں کی انٹیلی جنٹ فیکٹری نے نومبر 2023 میں کام شروع کیا تھا۔ مصروف کارخانے میں خودکار رہنمائی سے چلنے والی گاڑیاں (اے جی ویز) مختلف سائز کے پرزے لے کر راستوں میں رواں دواں رہتی ہیں اور انہیں ان ورک سٹیشنز تک پہنچاتی ہیں جہاں کارکنوں نے ان کی طلب درج کی ہوتی ہے۔
فیکٹری کی اسمبلی لائن کے پروڈکشن منیجر ژاؤ چی فینگ کے مطابق ذہین ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے جن مشکل مسائل پر قابو پایا گیا، ان میں مصنوعات کا معائنہ ایک اہم چیلنج تھا۔
ژاؤ نے بتایا کہ ’’پہلے کارکن جانچ کے لئے فولادی فیتے، پیمائش کرنے والے ٹیپ اور سٹاپ واچ استعمال کرتے تھے۔ اب مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹک نظام کے ذریعے ہم تقریباً 10 منٹ میں اہم پیمائشی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد ہر کھدائی کرنے والی مشین کی حالت سے متعلق یہ ’’رپورٹ‘‘ کمپنی کے ڈیجیٹل نظام پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے۔
سالانہ 20 ہزار سے زیادہ کھدائی کرنے والی مشینیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اس فیکٹری نے جدید ذہین نظام کی بدولت خودکار عمل کی شرح 65 فیصد تک پہنچا دی ہے۔ مجموعی پیداواری صلاحیت میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، آرڈرز پر ردعمل دینے کا وقت 45 فیصد کم ہوا ہے جبکہ پیداواری کارکردگی میں 25 فیصد بہتری آئی ہے۔
کمپنی کے بین الاقوامی کاروباری شعبے میں کاروباری امور کے ڈائریکٹر لیو شوانگ فینگ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں لیوگونگ کی بیرون ملک آمدن پہلی بار 10 ارب یوآن (تقریباً 1.49 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ اب کمپنی کا کاروبار دنیا بھر کے 180 ممالک اور خطوں تک پھیل چکا ہے۔
لیو نے کہا کہ ستمبر میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لئے کھولی جانے والی پھنگ لو نہر کی بدولت عالمی منڈیوں کے ساتھ کمپنی کے رابطے مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔
134.2 کلومیٹر طویل یہ نہر گوانگ شی کے دارالحکومت نان ننگ کو خلیج بے بو سے ملاتی ہے، جہاں سے جنوبی بحیرہ چین تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ چین کے بیشتر جنوب مغربی علاقوں کے لئے قریب ترین بحری راستہ ہونے کے ساتھ یہ نہر لیوژو کی کمپنیوں کو برآمدات کے لئے زیادہ موثر راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔
لیو کے مطابق لیوگونگ نے چھن ژو بندرگاہ کے ذریعے برآمدات بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جہاں نئی نہر کھلنے کے بعد مزید سمندری جہازوں کی آمد متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’گوانگ ڈونگ کی بندرگاہوں کے ذریعے سامان بھیجنے کے مقابلے میں چھن ژو کے راستے سے کمپنی کی اندرون ملک نقل و حمل کے اخراجات تقریباً 15 سے 18 فیصد کم ہو سکتے ہیں، جبکہ سامان پہنچنے میں 7 سے 10 دن کم لگیں گے۔‘‘
مضبوط ریلوے نیٹ ورک کے باعث لیوژو کو اب سمندر تک رسائی کے دو راستے میسر ہیں۔ سامان براہ راست ریل کے ذریعے چھن ژو بندرگاہ پہنچایا جا سکتا ہے یا ریل کے ذریعے نان ننگ لے جایا جا سکتا ہے، جہاں سے پھنگ لو نہر کے ذریعے خلیج بے بو کی بندرگاہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
لیوژو کے ریلوے پورٹ والے علاقے لیو نان ڈسٹرکٹ کے ترقیاتی و اصلاحاتی بیورو کے ڈائریکٹر چی جیان فینگ نے کہا کہ دونوں راستے ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں، کاروباری اداروں کو نقل و حمل کے مزید متبادل فراہم کرتے ہیں اور سپلائی چین کو کسی بھی رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
برآمدات کے عمل کو تیز کرنے کے لئے ریلوے پورٹ پر کسٹمز کی نگرانی میں قائم ایک مرکز نے مئی میں پہلی بار ریل اور سمندر کے مشترکہ راستے سے بھیجے جانے والے سامان کی کسٹمز کلیئرنس مکمل کی۔ لیوژو کسٹمز کے سربراہ لوو چیاؤ فینگ کے مطابق اس سہولت سے برآمد کنندگان لیوژو ہی میں کسٹمز کی کارروائیاں مکمل کر سکتے ہیں۔
اعلانات، معائنے اور سامان کی روانگی کی کارروائیوں کو آسان بنانے کے بعد لیوژو کے نئے یکساں کلیئرنس نظام نے ہر کھیپ کی کسٹمز کلیئرنس کا وقت تقریباً 48 گھنٹے کم کر دیا ہے۔ لوو نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل نظام کنٹینرز اور ان کی مہروں کے نمبروں کی خودکار جانچ بھی کرتا ہے، جس سے سامان کی روانگی تیز ہو جاتی ہے۔
لیوژو کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے ستمبر تک شہر کی ریلوے پورٹ سے 17 ہزار ٹی ای یوز سامان منتقل کیا گیا، جو پورے 2025 کے مقابلے میں 22 گنا زیادہ ہے۔
چین کے اندرونی شہر سے کھدائی کرنے والی مشینوں کی عالمی منڈیوں تک زیادہ تیزی اور سہولت کے ساتھ ترسیل



