برسلز (شِنہوا) یورپی یونین (ای یو) کا 2 روزہ سربراہ اجلاس برسلز میں طویل مدتی بجٹ پر کسی اہم پیش رفت کے بغیر ختم ہو گیا۔ اجلاس میں سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور توانائی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے یورپ کے عزائم اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو نمایاں کر دیا۔
اجلاس میں محدود پیش رفت کے پس منظر میں 3 اہم چیلنجز درپیش تھے جن میں بجٹ پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مشکلات، واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کے باعث سکیورٹی اخراجات میں اضافہ اور توانائی کا بحران جو یورپ کی اقتصادی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو آزما رہا ہے، شامل ہیں۔
یورپی کمیشن نے 2028 سے 2034 تک کے عرصے کے لیے تقریباً 20 کھرب یورو (22.4 کھرب امریکی ڈالر)کے بجٹ کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد مسابقت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔
آئرلینڈ کی صدارت میں پیش کئے گئے تازہ ترین سمجھوتے کے مسودے میں یورپی کمیشن کی تجویز کردہ رقم میں تقریباً 141 ارب یورو (158 ارب امریکی ڈالر) کی کمی کی گئی ہے، تاہم نظرثانی شدہ منصوبے کو مختلف مخالف دھڑوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے خبردار کیا کہ اس سمجھوتے سے بجٹ میں لچک نصف رہ جائے گی اور 99.5 فیصد فنڈز پہلے ہی مخصوص مقاصد کے لئے مختص ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ تجویز ہمیں پابندیوں کی زنجیر میں جکڑ دے گی۔‘‘
یورپی یونین کا سربراہ اجلاس بڑھتے اخراجات، اختلافات کے حل کے بغیر ختم



