بیجنگ (شِنہوا) ایشیا پیسیفک خطے کے کاروباری اور حکومتی رہنماؤں کے اجلاس میں خطے کی خوشحالی کے لئے لائحہ عمل طے کرنے میں ایک ماہ باقی ہے۔ اپیک سی ای او سربراہ اجلاس 2026 آئندہ ماہ 17 اور 18 نومبر کو چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر شین زین میں منعقد ہوگا۔
’’مشترکہ کامیابی کے لئے مل کر خوشحالی کو فروغ دینا‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں اپیک کی متعدد معیشتوں کے رہنما اور کاروباری نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں ایشیا پیسیفک آزاد تجارتی علاقے کی ترقی، باہمی رابطوں، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل معیشت، گوانگ ڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ عظیم تر خلیجی علاقے اور پائیدار ترقی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دو روزہ اجلاس کا انعقاد بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لئے چینی کونسل (سی سی پی آئی ٹی) کر رہی ہے۔
ملائیشیا کی ایسوسی ایٹڈ چائنیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر این جی ییح پائنگ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ اجلاس تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو مزید آسان بنانے، صنعتی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے بھر کی کمپنیوں کے لئے کاروبار کے ٹھوس مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے تجارتی سہولتوں میں بہتری، سرحد پار کاروباری اخراجات میں کمی اور ڈیجیٹل تجارت، مصنوعی ذہانت کے استعمال، افرادی قوت کی تربیت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعاون پر زور دیا۔
اپیک کے اہم سالانہ اجتماعات میں شامل سی ای او سربراہ اجلاس 1996 سے ہر سال منعقد ہو رہی ہے۔ یہ اپیک کی معیشتوں کے رہنماؤں اور کاروباری نمائندوں کے لئے کھلے تعاون پر تبادلہ خیال اور علاقائی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کا اعلیٰ سطح کا پلیٹ فارم ہے۔
چین نے اس سال اپیک تعاون کے لئے کھلے پن، جدت اور تعاون کو تین ترجیحی شعبوں کے طور پر متعین کیا ہے، تاکہ خطے کو درپیش نئے مواقع اور چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ کاروباری رہنماؤں کا خیال ہے کہ یہ تین ترجیحات تمام فریقوں کے درمیان وسیع تر مشترکہ مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔
پیناسونک ہولڈنگز کارپوریشن گروپ کے ایگزیکٹو افسر ماساہارو ناکایاما نے کہا کہ ایشیا پیسیفک خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کی مضبوطی کی بنیاد کھلے پن اور تعاون پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو باہمی رابطوں میں بہتری کے ذریعے سپلائی چین اور ویلیو چین کے انضمام کو گہرا کرنا چاہیے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور پائیدار ترقی میں نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور تعاون کے دائرے کو مل کر وسیع کرنا چاہیے، تاکہ خطے کی تمام معیشتیں ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
جدت کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے این جی نے ملائیشیا اور چین کے درمیان ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے امکانات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ چین کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ اور ای کامرس کے شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے، جبکہ ملائیشیا کے پاس مضبوط صنعتی بنیاد، مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والی افرادی قوت اور آسیان ممالک میں کاروباری روابط موجود ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک علاقائی منڈیوں میں مواقع تلاش کرنے کے لئے صنعتی اور جدت کے شعبوں میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔
2026 میں اپیک کے ’’چائنہ ایئر‘‘ کے دوران علاقائی کاروباری تعاون میں مسلسل پیش رفت ہوئی ہے۔ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق رائے میں اضافہ ہوا، باہمی رابطے بہتر ہوئے اور عملی اشتراک کے لئے بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔
سی سی پی آئی ٹی کے چیئرمین رین ہونگ بن نے کہا کہ ادارہ اعلیٰ معیار کا اجلاس منعقد کرے گا اور ایشیا پیسیفک برادری کی تشکیل میں سہولت فراہم کرنے کے لئے شین زین اقدام کا آغاز کرے گا۔
اپیک سی ای او سربراہ اجلاس 2026 سے تعاون اور خوشحالی کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع



