پیرس (نیشنل ٹائمز)فرانس میں مہنگائی کیخلاف ملک گیر پرتشدد مظاہروں کے دوسرے روز بھی بدامنی جاری رہی،اتوار کو پیرس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ،مختلف مقامات پر لوٹ مار کی گئی ۔ پیرس میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈز استعمال کیے ۔ مظاہرین نے اہلکاروں پر بوتلیں اور پتھر پھینکے ۔ پیرس میں کپڑوں کی دکانیں لوٹنے اور سائیکلوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ، لیون میں بھی ایک دکان میں لوٹ مار کی گئی۔فرانسیسی وزارت داخلہ نے بتایا کہ مجموعی طور پر2400افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ پولیس کے 997 اہلکار زخمی ہوئے ، جن میں سے سات شدید زخمی ہیں۔ دارالحکومت پیرس میں ریکارڈ 855 گرفتاریاں ہوئیں، متعدد گاڑیوں، دکانوں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ تجارتی تنظیم کے مطابق 1500سے زائد کاروباری مراکز متاثر ہوئے ، جس سے کروڑوں یورو کے نقصان کا تخمینہ ہے ۔ ٹرمپ نے فرانس میں پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کا ذمہ دار تارکین وطن کو قرار دیتے ہوئے سرحدیں بند اور قوانین سخت کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمد نے فرانس کو نقصان پہنچایا۔فرانس کے صدر میکخواں نے اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے تباہی مچائی ہے ، انہیں اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے کہا ملک میں سکیورٹی مزید سخت کریں گے ، مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیاجائے گا۔ جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والوں اور توڑ پھوڑ اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے ۔
فرانس :مہنگائی کیخلاف ہنگامے جاری،لوٹ مار،جھڑپیں



