بھوک سے بلکتے بچے اور بے بس ماں کی فریاد
کیا یہی ہے حکمرانوں کے وعدوں کی بنیاد
وزیراعظم کے شاہانہ بیانات اور عوام کی بھوک کے درمیان ایک خونی فاصلہ جس کی بنیادخود موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے مرتب کیں اب عوام کی ہمدردی حاصل کر نے کے لیے جاری بیانات بھی اپنا بیعانیہ بنانے میں ناکام دکھاٸی دیتے ہیں
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے غربت کے خاتمے کے عالمی دن سترہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کے موقع پر جاری ہونے والا سرکاری پیغام پڑھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا اور ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھا کہ کیا اس ملک کے حکمران واقعی عوام کی زمینی حقیقتوں سے اس قدر بے خبر ہو چکے ہیں کہ انہیں غریب کے خالی چولہے اور بھوک سے بلکتے بچوں کی آواز سنائی نہیں دیتی یا پھر اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھ کر انہیں عوام کی چیخیں سنائی دینا ہی بند ہو گئی ہیں ایک طرف وزیراعظم غربت کے خاتمے عدم مساوات میں کمی محفوظ رہائش سماجی تحفظ اور معاشی خوشحالی کے بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کا عام شہری مہنگائی بے روزگاری بجلی گیس اور پٹرول کے بھاری بلوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے بری طرح کچلا جا رہا ہے ایسے میں سوال یہ نہیں کہ حکومت نے اپنے پیغام میں کتنے خوبصورت الفاظ استعمال کیے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان الفاظ کا عام پاکستانی کی زندگی سے کتنا تعلق ہے میاں شہباز شریف صاحب آپ کے سرکاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کے سماجی و معاشی حقوق کا تحفظ اور اس کی عزت و وقار کی حفاظت بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے بلاشبہ یہ بات درست ہے مگر وزیراعظم صاحب سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی حکومت نے ان حقوق کو عوام کی عملی زندگی میں یقینی بنایا ہے کیا مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ مل رہا ہے کیا سفید پوش گھرانے کے لیے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانا آسان ہے کیا ایک عام ملازم اپنی تنخواہ میں گھر کا کرایہ بجلی گیس بچوں کی تعلیم علاج معالجہ اور دیگر ضروری اخراجات پورے کر سکتا ہے کیا ایک بے روزگار نوجوان کو میرٹ پر روزگار مل رہا ہے اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں تو پھر غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر جاری ہونے والا سرکاری پیغام عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک پاشی کے مترادف محسوس ہوتا ہے حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غربت محض کسی سرکاری رپورٹ میں درج ایک عدد یا عالمی دن پر جاری کیے جانے والے پیغام کا موضوع نہیں ہوتی غربت وہ عذاب ہے جو ایک باپ کو اپنے بچوں کی خواہشات پوری نہ کر سکنے پر اندر سے توڑ دیتا ہے غربت وہ بے بسی ہے جس میں ایک ماں اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر خود پانی پی کر سو جاتی ہے غربت وہ اذیت ہے جس میں مریض پیسے نہ ہونے کے باعث علاج سے محروم رہ جاتا ہے اور غربت وہ تلخ حقیقت ہے جس میں ایک قابل نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے ان حالات میں اگر حکومت یہ دعویٰ کرے کہ وہ معاشی خوشحالی اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہے تو اسے سب سے پہلے عوام کے سامنے ایسے قابل تصدیق اعداد و شمار رکھنے چاہییں جن سے ثابت ہو کہ عام آدمی کی زندگی واقعی بہتر ہوئی ہے پاکستان مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادیوں کی حکومتوں کے معاشی دعووں کا جائزہ لیتے وقت یہ سوال ناگزیر ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے آغاز سے لے کر موجودہ دور تک غربت کی شرح میں کیا تبدیلی آئی ہے عام شہری کی قوت خرید کتنی کم یا زیادہ ہوئی ہے حقیقی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا ہے اور کتنے خاندان غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں حکومت اگر اپنی کارکردگی کو کامیاب قرار دیتی ہے تو اسے محض تقاریر اور تشہیری مہمات کے ذریعے نہیں بلکہ آزادانہ جانچ کے قابل سرکاری اعداد و شمار کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ معاشی فیصلوں کا فائدہ کس طبقے کو پہنچا اور ان کی قیمت کس طبقے نے ادا کی۔
وزیراعظم کے پیغام میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام قومی سماجی و معاشی رجسٹری ڈیجیٹل سماجی تحفظ والٹ وزیراعظم اپنا گھر سکیم دانش سکول سسٹم نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن وزیراعظم یوتھ پروگرام اور اڑان پاکستان جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے ان پروگراموں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر ان کے ذریعے مستحق خاندانوں کو حقیقی فائدہ پہنچ رہا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان پروگراموں سے کتنے خاندان مستقل طور پر غربت سے باہر نکلے کتنے نوجوانوں کو پائیدار روزگار ملا کتنے بے گھر خاندانوں کو اپنی چھت میسر آئی اور کتنے مستحق افراد تک امداد شفاف طریقے سے پہنچی حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان منصوبوں کے لیے مختص وسائل کے مقابلے میں عملی نتائج کیا ہیں کیونکہ غربت کے خاتمے کا معیار منصوبوں کی تعداد نہیں بلکہ غربت میں حقیقی اور پائیدار کمی ہے
وزیراعظم صاحب محفوظ گھر کی فراہمی کا اعلان اپنی جگہ مگر اس ملک میں لاکھوں خاندانوں کے لیے کرائے کا مکان حاصل کرنا بھی ایک مشکل امتحان بن چکا ہے مکان کی تعمیر اور خریداری کے لیے آسان قرضوں کی بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جس شخص کی ماہانہ آمدن ہی اس کے بنیادی اخراجات پورے نہیں کر سکتی وہ قرض کی قسط کہاں سے ادا کرے گا جس مزدور کے پاس مستقل ملازمت نہیں جس دیہاڑی دار کو ہر روز کام نہیں ملتا اور جس خاندان کے لیے کھانے پینے کا انتظام مشکل ہو چکا ہے وہ بینک سے قرض لے کر اپنا گھر کیسے بنائے گا غریب کو محض قرض کی پیشکش نہیں بلکہ ایسا معاشی ماحول چاہیے جس میں اس کی آمدن مستحکم ہو روزگار دستیاب ہو اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد اس کے پاس مستقبل کے لیے بچت کی گنجائش بھی موجود ہو۔
غربت کے خاتمے کے دعووں کے ساتھ بے روزگاری کے مسئلے پر بھی حکومت کو جواب دینا ہوگا پاکستان کے اندر کاروباری طبقہ شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے چھوٹے تاجروں سے لے کر بڑے کاروباری اداروں تک بجلی کی قیمتوں بلند پیداواری لاگت ٹیکسوں اور غیر یقینی معاشی حالات کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں جب کاروبار سکڑتے ہیں تو نئے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے اور جب ادارے اخراجات کم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست بوجھ ملازمین اور ان کے خاندانوں پر پڑتا ہے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ملک کے اندر روزگار کے معیاری اور پائیدار مواقع پیدا کرنا کس قدر ضروری ہے البتہ اس مسئلے کا درست اندازہ لگانے کے لیے ہجرت کرنے والوں کی تعداد کے ساتھ ان کی وجوہات اور روزگار کے دستیاب مواقع کے مستند اعداد و شمار بھی سامنے لانے چاہییں۔
یہ کیسا معاشی نظام ہے جس میں محنت کرنے والا شخص دن رات کام کرنے کے باوجود اپنے گھر کا بجٹ پورا نہیں کر پاتا اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے سہولتوں اور رعایتوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں عام شہری سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر حکمران طبقے کے اخراجات میں کمی کی واضح مثالیں کم دکھائی دیتی ہیں اگر حکومت واقعی معاشی مساوات پر یقین رکھتی ہے تو اسے اپنے اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کرنی چاہیے غیر ضروری سرکاری مراعات کا جائزہ لینا چاہیے ٹیکس کے نظام میں انصاف یقینی بنانا چاہیے اور ان بااثر طبقات کو بھی قومی خزانے میں ان کے حصے کا پورا حصہ ادا کرنے کا پابند بنانا چاہیے جو طویل عرصے سے معاشی نظام کے فوائد سے زیادہ حصہ حاصل کرتے رہے ہیں آئی پی پیز کے معاملے پر بھی حکومت کو عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے بجلی کی بلند قیمتیں صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھاتی ہیں کاروبار کو متاثر کرتی ہیں اور گھریلو صارفین کے لیے زندگی مزید دشوار بنا دیتی ہیں بجلی کے معاہدوں کی شرائط ادائیگیوں کی تفصیلات پیداواری لاگت اور اصلاحات کے نتائج کو عوام کے سامنے لانا حکومت کی ذمہ داری ہے اگر کسی معاہدے میں قومی مفاد کے خلاف شرائط موجود ہیں تو ان کا جائزہ قانون اور معاہدوں کے مطابق لیا جانا چاہیے اور اگر اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوئی ہے تو اس کا فائدہ عام صارف تک پہنچنا چاہیے آخر کب تک عام آدمی اپنے محدود وسائل میں سے بھاری بل ادا کرتا رہے گا جبکہ اس کی آمدن میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا پٹرول اور توانائی کی قیمتوں کا معاملہ بھی غربت سے براہ راست جڑا ہوا ہے پٹرول مہنگا ہونے سے صرف گاڑی چلانے والے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ٹرانسپورٹ مال برداری زرعی پیداوار اشیائے خورونوش اور روزمرہ خدمات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے اس لیے جب بھی حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی یا دیگر محصولات میں اضافہ کرتی ہے تو اسے عوام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اس فیصلے کی ضرورت کیا ہے اس سے کتنا مالی فائدہ حاصل ہوگا اور عام شہری پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے قومی خزانے کی ضروریات اپنی جگہ مگر عوام کی قوت برداشت بھی کوئی لامحدود چیز نہیں ہے حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ غریب آدمی کی جیب سے نکالا جانے والا ہر اضافی روپیہ اس کے گھر کے بجٹ میں ایک نئی مشکل پیدا کرتا ہے
وزیراعظم کے پیغام میں تعلیم صحت ہنرمندی اور روزگار کو غربت کے خاتمے کے بنیادی ذرائع قرار دیا گیا ہے مگر زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کرکے ان شعبوں میں کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانا اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانا بچوں کے لیے معیاری تعلیم کو قابل رسائی بنانا اور سرکاری ہسپتالوں میں مفت یا قابل استطاعت علاج فراہم کرنا کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ بنیادی ذمہ داری ہے اگر ایک غریب خاندان کو اپنے بچے کی تعلیم کے لیے قرض لینا پڑے اور بیماری کی صورت میں علاج کے لیے اپنی جمع پونجی فروخت کرنا پڑے تو یہ اس نظام کی ناکامی ہے جو شہریوں کو مساوی مواقع دینے کا وعدہ کرتا ہے پنجاب سمیت ملک کے تمام صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں تعلیم صحت اور بنیادی سہولتوں پر خرچ ہونے والی رقم اور ان کے عملی نتائج کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہییں تاکہ تشہیری دعووں اور حقیقی کارکردگی کے درمیان فرق واضح ہو سکے حکومت کی ترجیحات پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں جب ملک معاشی مشکلات سے دوچار ہو جب عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہوں جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں اور جب چھوٹے کاروبار دباؤ میں ہوں تو وزیراعظم کی اولین توجہ ملک کے اندر معاشی بحالی روزگار کی فراہمی اور عوامی مشکلات کے حل پر ہونی چاہیے بیرون ملک دورے سفارتی تعلقات اور عالمی رہنماؤں سے روابط اپنی جگہ اہم ہیں مگر ان کا اصل مقصد بھی پاکستان کے قومی مفادات اور عوام کی بہتری ہونا چاہیے اگر دوروں اور ملاقاتوں کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آتی تو حکومت کو اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
وزیراعظم کے پیغام میں سیلاب سے متاثرہ اور انتہائی غریب خاندانوں کے لیے خصوصی معاونتی منصوبے کا ذکر بھی کیا گیا ہے مگر پاکستان کے عوام اب اعلانات سے زیادہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ منصوبہ کب شروع ہوگا اس کے لیے کتنے وسائل مختص کیے گئے ہیں مستحق خاندانوں کا انتخاب کیسے ہوگا اور امداد کی تقسیم کی نگرانی کون کرے گا اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کے منصوبوں کے تحت فراہم کی جانے والی امداد کو مہنگائی کے اثرات کے مطابق مؤثر بنانا ضروری ہے کیونکہ اگر امداد کی رقم بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں ناکافی ہو جائے تو اس کا فائدہ بھی محدود ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو غربت سے نکالنے کے لیے محض امدادی پروگرام کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایک ایسی معاشی حکمت عملی درکار ہے جو صنعت کو فروغ دے زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت بڑھائے چھوٹے کاروباروں کو سہولت دے ٹیکس کے نظام کو منصفانہ بنائے توانائی کی لاگت کم کرے نوجوانوں کو ہنر سکھائے اور سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد ماحول پیدا کرے روزگار کے مواقع اسی وقت پائیدار ہوں گے جب کاروبار چلیں گے صنعت ترقی کرے گی پیداوار بڑھے گی اور عام شہری کی آمدن میں حقیقی اضافہ ہوگا حکومت کو اپنی کامیابی کا پیمانہ اشتہارات کی تعداد یا سرکاری تقریبات کی چمک دمک کے بجائے عوام کی قوت خرید غربت کی شرح بے روزگاری تعلیم صحت اور بنیادی سہولتوں تک رسائی میں آنے والی بہتری کو بنانا چاہیے حکمرانوں کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ عوام ہمیشہ سرکاری بیانات کے سحر میں گرفتار نہیں رہ سکتے آج کا شہری اپنی روزمرہ زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتا ہے وہ بازار میں آٹے چینی دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں دیکھتا ہے بجلی کا بل ادا کرتے وقت اپنی بے بسی محسوس کرتا ہے بچوں کی فیس کے لیے پریشان ہوتا ہے علاج کے اخراجات سے گھبراتا ہے اور روزگار کی تلاش میں دربدر ہوتا ہے اس کے لیے معاشی ترقی کا اصل مطلب یہی ہے کہ اس کی آمدن میں اضافہ ہو اس کے اخراجات قابل برداشت ہوں اس کے بچوں کو معیاری تعلیم ملے اس کے گھر میں بیماری کے وقت علاج کا انتظام ہو اور اسے اپنے مستقبل کے بارے میں امید محسوس ہو میاں شہباز شریف صاحب غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر آپ کا پیغام اسی وقت بامعنی ہوگا جب اس کے الفاظ عملی پالیسی میں تبدیل ہوں گے اگر حکومت واقعی غربت کم کرنے کے لیے پرعزم ہے تو اسے عوام کے سامنے ایک واضح اور قابل پیمائش منصوبہ پیش کرنا چاہیے جس میں غربت اور بے روزگاری میں کمی کے اہداف حقیقی آمدن میں اضافے کے اقدامات بجلی اور توانائی کی قیمتوں میں بہتری تعلیم اور صحت کے لیے وسائل کی فراہمی اور سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری کا مکمل خاکہ موجود ہو اس منصوبے کی پیش رفت باقاعدگی سے شائع کی جائے اور ناکامی کی صورت میں ذمہ داروں سے جواب طلب کیا جائے یہی شفافیت عوام کا اعتماد بحال کر سکتی ہے۔
یاد رکھیے غربت کے خاتمے کا عالمی دن صرف ایک رسمی تاریخ نہیں بلکہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے احتساب کا دن بھی ہے یہ دن ان کروڑوں لوگوں کی یاد دہانی ہے جو بہتر زندگی کی امید رکھتے ہیں مگر معاشی مشکلات کے باعث اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں حکومت اگر ان کی تکلیف کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے بلند بانگ دعوے تاریخ کے صفحات پر محض الفاظ بن کر رہ جائیں گے پاکستان کے عوام کو ایسے حکمران درکار ہیں جو ان کے دکھ کو محسوس کریں جو اپنے وعدوں کا حساب دیں جو قومی وسائل کو امانت سمجھیں اور جو غریب کو محض انتخابی نعرہ یا سرکاری پیغام کا موضوع بنانے کے بجائے اپنی پالیسیوں کا مرکز بنائیں
اب وقت آ گیا ہے کہ غربت مٹانے کے نام پر صرف بیانات جاری کرنے کے بجائے غربت پیدا کرنے والے معاشی مسائل کا خاتمہ کیا جائے عوام کو اشتہارات نہیں روزگار چاہیے نمائشی دعوے نہیں عملی ریلیف چاہیے قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت کے ساتھ ساتھ عام شہری کو بھی سانس لینے کی گنجائش چاہیے اور ایسے وعدے نہیں چاہییں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو وزیراعظم صاحب اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں غربت ختم ہو تو سب سے پہلے اس غریب کی زندگی بدلنے کا عملی ثبوت دیجیے جو آج بھی اپنے بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کی فکر میں رات بھر جاگتا ہے کیونکہ ریاست کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے حکمران دنیا کے سامنے کیا کہتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کے عوام اپنے گھروں میں کتنے مطمئن اور کتنے باعزت طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔
غربت مٹاؤ کے دعوے اور حقیقت



