اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات سے تو سب واقف ہیں، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سگریٹ کا دھواں مردوں اور خواتین کی تولیدی صحت کو بھی متاثر کرسکتا ہے اور بانجھ پن کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹیوں آف شیفیلڈ اور ناٹنگھم کے سائنسدانوں نے مشترکہ تحقیق میں سگریٹ کے دھویں کے تولیدی نظام پر اثرات کا جائزہ لیا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چھ میں سے ایک فرد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تمباکو نوشی اور بانجھ پن کے درمیان تعلق پہلے بھی مختلف سائنسی مطالعات میں سامنے آچکا ہے، تاہم محققین اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سگریٹ کے دھویں میں موجود مضر مادے جسم کے تولیدی نظام کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
تحقیق کے دوران نر اور مادہ چوہوں کو 12 ہفتوں تک سگریٹ کے دھویں کی زد میں رکھا گیا اور ان کے تولیدی اعضا میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ تمباکو کے دھویں سے متاثر ہونے کے نتیجے میں دونوں جنسوں کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ کے دھویں میں موجود نقصان دہ اجزا جسم کے مختلف اعضا پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں، جس سے تولیدی صلاحیت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ محققین اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ والدین کی تمباکو نوشی ان کی آئندہ نسل کی تولیدی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے Frontiers in Toxicology میں شائع کیے گئے۔
فضائی آلودگی بھی تولیدی صحت کے لیے خطرہ
دوسری جانب امریکا کی ایموری یونیورسٹی کی جانب سے دسمبر 2024 میں سامنے آنے والی ایک تحقیق میں فضائی آلودگی اور بانجھ پن کے ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے میں تقریباً 1,400 مردوں اور خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جو ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کے ذریعے والدین بننے کی کوشش کر رہے تھے۔
محققین نے شرکا کے رہائشی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح کا جائزہ لے کر اس کے تولیدی عمل اور حمل ٹھہرنے کے امکانات پر ممکنہ اثرات کا مطالعہ کیا۔ نتائج سے اشارہ ملا کہ بعض آلودہ ذرات کی زیادہ مقدار تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے اور حمل ٹھہرنے کے امکانات کو متاثر کرسکتی ہے۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فضائی آلودگی کے اثرات صرف خواتین تک محدود نہیں، بلکہ مردوں کی تولیدی صحت بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بانجھ پن پر گفتگو کرتے ہوئے مردوں کی تولیدی صحت کو اکثر وہ توجہ نہیں ملتی جس کی ضرورت ہے۔
جنگلات میں لگنے والی آگ، ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں، بجلی گھروں اور صنعتی سرگرمیوں سے خارج ہونے والے ذرات فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ آلودہ اجزا انسانی صحت کے لیے مختلف خطرات پیدا کرسکتے ہیں، جبکہ بعض سائنسی مطالعات میں انہیں تولیدی مسائل سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی سے گریز اور فضائی آلودگی سے حتی الامکان تحفظ مجموعی صحت اور تولیدی صلاحیت کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ تاہم بانجھ پن کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، اس لیے ہر فرد میں اس مسئلے کو کسی ایک عامل سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ سامنے آگئی



