ہانگ کانگ/شین زین (شِنہوا) چین کے شہر شین زین اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے درمیان سرحد پار آمدورفت کو آسان بنانے کے لئے ازسرنو تعمیر شدہ ہوانگ گانگ پورٹ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق 6 بج کر 30 منٹ پر کھول دیا گیا۔ازسرنو تعمیر کئے گئے اس پورٹ کو ہانگ کانگ اور شین زین کے درمیان 24 گھنٹے فعال سب سے اہم زمینی سرحدی گزرگاہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہاں مشترکہ مقام پر امیگریشن کلیئرنس کے انتظام کے تحت ’’مشترکہ معائنہ اور مربوط کلیئرنس‘‘ کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت مسافر ایک ہی قطار میں رہتے ہوئے ہانگ کانگ اور شین زین دونوں جانب سے امیگریشن کلیئرنس مکمل کر سکیں گے۔کلیئرنس کے اس نئے نظام کے تحت کارروائی کا دورانیہ سابقہ لوک ما چھاؤ/ہوانگ گانگ پورٹ پر لگنے والے تقریباً 30 منٹ سے کم ہو کر لگ بھگ 5 منٹ رہ جائے گا۔ازسرنو تعمیر شدہ پورٹ کو روزانہ 2 لاکھ مسافروں کی آمدورفت کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مستقبل میں ہانگ کانگ کی ایم ٹی آر کارپوریشن لمیٹڈ کی ناردرن لنک سپر لائن فعال ہونے کے بعد اس گنجائش کو بڑھا کر تقریباً 3 لاکھ مسافر یومیہ کیا جا سکے گا۔پورٹ پر مشترکہ معائنے کے لئے 134 خودکار راستے اور 68 روایتی دستی کاؤنٹر ساتھ ساتھ قائم کئے گئے ہیں۔ خودکار راستوں کے علاوہ مسافر دستی کاؤنٹرز کے ذریعے بھی کسٹمز اور امیگریشن کلیئرنس مکمل کر سکتے ہیں۔ہوانگ گانگ پورٹ کے ذریعے ہانگ کانگ سے شین زین جانے والی ایک مسافر مس وونگ نے کہا کہ ’’یہ بہت آسان اور انتہائی تیز ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے سرحد پار کرنے کے لئے شٹل بس میں سفر کرنا پڑتا تھا جس میں کافی وقت لگتا تھا، لیکن مشترکہ کلیئرنس کے نئے انتظام نے کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔اصل ہوانگ گانگ پورٹ 1989 میں کھولا گیا تھا اور یہ چین کی پہلی بڑی زمینی بندرگاہ تھی جہاں 24 گھنٹے امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس کی سہولت دستیاب تھی۔ اس بندرگاہ سے اب تک کروڑوں مسافر گزر چکے ہیں، جبکہ یہاں روزانہ مسافروں کی آمدورفت کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور گاڑیوں کی یومیہ آمدورفت تقریباً 10 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔سرحد پار آمدورفت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے 2019 میں اسی مقام پر پورٹ کی ازسرنو تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا۔
چین کے شین زین اور ہانگ کانگ کے درمیان سرحد پار سفر آسان بنانے کے لئے ازسرنو تعمیر شدہ پورٹ کھول دیا گیا



