جنوبی چین کے گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کی قدیم نہر ثقافتی ورثے کی زندہ مثال بن گئی

نان ننگ (شِنہوا) آئی چھینگ گانگ کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے سائیکل پر سوار ہو کر لنگ چھو نہر کے کنارے نکل پڑتے ہیں۔ وہ یہ دھیان رکھتے ہیں کہ ساحل پر کوڑا کرکٹ اٹکا نہ ہو اور یہ بھی نظر رکھتے ہیں کہ کوئی بچہ پانی کے بہت قریب نہ کھیل رہا ہو۔
70 کی دہائی میں قدم رکھنے والے آئی چھینگ گانگ نے اپنی پوری زندگی چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کی شنگ آن کاؤنٹی میں گزاری جہاں یہ نہر دو ہزار سال سے زائد عرصے سے مکانوں اور کھیتوں کے قریب سے بہہ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہر ہمارے لئے گھر کا درجہ رکھتی ہے۔
آئی چھینگ گانگ جس آبی راستے کی دیکھ بھال کرتے ہیں وہ پرسکون اور پائیدار نہر اس ہفتے دور دراز سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دنیا بھر سے نہروں کے ماہرین اور شائقین گوانگ شی کے شہر گوئی لین میں پیر کے روز شروع ہونے والی ورلڈ کینالز کانفرنس کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔ گوئی لین شہر کے مرکز سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لنگ چھو نہر اس تقریب کی توجہ کا محور ہے۔
اس کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے نہروں کے حامل شہروں، تحقیقاتی اداروں اور واٹر وے تنظیموں کے نمائندے جمع ہوئے ہیں۔ چین میں اس تقریب کا انعقاد تیسری بار اور گوانگ شی میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ بات چیت کا محور یہ ہے کہ پانی کے تاریخی راستوں کو کس طرح محفوظ رکھا جائے اور کنارے پر آباد مقامی افراد کے لئے کیسے ان کی افادیت برقرار رکھی جائے۔
آئی چھینگ گانگ کی نہر کے محافظ کے طور پر خدمات ان کی خاندانی روایت کا حصہ ہیں۔ وہ ڈو جون کی نسل سے ہیں جو ماضی میں نہر کی نگرانی، ساحلوں کا گشت اور بند مضبوط بناتے اور کشتیوں کی محفوظ آمد و رفت کے لئے واٹر گیٹس چلاتے تھے۔
جب سڑکوں اور ریلوے نے نقل و حمل کے راستے کے طور پر نہر کی جگہ لے لی تو یہ کردار آہستہ آہستہ ختم ہو گیا اور اب آئی چھینگ گانگ اس نہر کی حفاظت کرنے والے ایک رضاکار گروپ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
37 کلومیٹر طویل لنگ چھو نہر چھن سلطنت (221 قبل مسیح – 207 قبل مسیح) کے شہنشاہ چھن شی ہوانگ کے حکم پر تعمیر کی گئی تھی جس نے شیانگ جیانگ اور لی جیانگ دریاؤں اور ان کے ذریعے یانگسی اور پرل دریائی نظاموں کو باہم ملا دیا تھا۔
بنیادی طور پر لنگ نان میں برسر پیکار چھن فوجوں کے لئے سامان کی فراہمی کے مقصد سے تعمیر کی گئی یہ نہر بعد میں چین کے اندرونی علاقوں کو جنوبی خطے سے جوڑنے والا ایک اہم تجارتی راستہ بن گئی۔
ڈو جیانگ یان اور ژینگ گو نہر کے ساتھ لنگ چھو کو بھی قدیم چین کے تین بڑے آبی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اگرچہ اب اس کے پانیوں پر مال بردار جہاز نہیں چلتے لیکن یہ نہر اب بھی زرعی زمینوں کو سیراب کرتی، سیلاب کی روک تھام میں مدد دیتی اور گوئی لین کے مشہور کارسٹ مناظر سے گزرنے والے لی جیانگ دریا کو پانی فراہم کرتی ہے۔ مقامی افراد اس کے کناروں پر پرانے درختوں کے نیچے ٹہلتے اور سستاتے ہیں جبکہ کسان قریب کے کھیتوں میں کام جاری رکھتے ہیں۔



  تازہ ترین   
ملتان: رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 4 مسافر جاں بحق
ایرانی صدر کی سپریم لیڈر سے 7 گھنٹے طویل ملاقات، حکومتی مسائل بارے تبادلہ خیال
صدر ٹرمپ کا سعودیہ پر حملوں پر اظہار تشویش، حوثیوں کا رویہ انتہائی خراب قرار دیدیا
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا عمرہ زائرین کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے: سعودیہ
اردن کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان
ایران کی خطے کے ممالک کو امریکا پر بھروسہ کرنے پر سنگین نتائج کی وارننگ
غیر قانونی حملوں کیخلاف ترکیہ اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: اردگان





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر