سان فرانسسکو(نیشنل ٹائمز)مصنوعی ذہانت (اے آئی)کی کمپنی اینتھروپک نے اپنے اے آئی نظام ’کلاڈ‘ کے ساتھ مسلسل اور بلاجواز بدتمیزی کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ نئی پالیسی کے مطابق کلاڈ کو بدتمیزی پر مبنی ایسی گفتگو ختم کرنے کا اختیار ہوگا ۔ اینتھروپک اور اس کے عہدیدار اس تصور پر کھل کر بات کر رہے ہیں کہ آیا اے آئی نظام بھی اسی قسم کے تحفظ کے مستحق ہوسکتے ہیں، جیسا کہ عام طور پر جانداروں کو حاصل ہوتا ہے ۔اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے رواں سال فروری میں نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ اے آئی ماڈلز میں شعور موجود ہوسکتا ہے یا نہیں، تاہم وہ اس امکان کو مسترد نہیں کرتے ۔تاہم مشینوں میں شعور کے تصور کو بعض اہم شخصیات نے یکسر مسترد کیا ہے ، جن میں پوپ لیو چہاردہم اور مائیکروسافٹ کے اے آئی سربراہ مصطفی سلیمان شامل ہیں۔
سلیمان نے گزشتہ ماہ ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اے آئی نظام باشعور نہیں ہیں اور نہ ہی وہ محسوس کرتے ، تجربات سے گزرتے یا تکلیف سہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسی ٹیکنالوجی کو حقوق اور اخلاقی تحفظات دینا، جس کی صلاحیت اور ذہانت انسانوں سے کہیں آگے بڑھنے کا امکان ہو، تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا ہے ۔ادھر پوپ لیو چہاردہم نے جمعرات کو ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں اطالوی زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشینیں محض ڈیٹا جمع اور مرتب کرتی ہیں، وہ انسانی روح کی طرح تجربات کی گہرائی اور ان کے معنی کو نہیں سمجھ سکتیں۔



