نیروبی (شِنہوا) چین کی جانب سے کینیا کو 20 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی امداد موصول ہوگئی ہے جس کا مقصد ایبولا وائرس سے نمٹنے کی تیاریوں اور خشک سالی سے متاثرہ افراد کی مدد کرنا ہے۔
کینیا میں چین کی سفیر گو ہائی یان، کینیا کے قومی خزانے کے پرنسپل سیکرٹری کرس کیپٹو اور صحت عامہ کی پرنسپل سیکرٹری میری متھونی نے دارالحکومت نیروبی میں قومی خزانے کے دفتر میں امداد کی حوالگی کی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے حوالگی کی دستاویز پر دستخط کئے۔
کینیا کی حکومت کی درخواست پر چین نے ایبولا وائرس سے نمٹنے کی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لئے 10 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی امداد فراہم کی۔ یہ رقم ان کاؤنٹیوں میں حفاظتی انتظامات اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر خرچ کی جائے گی جہاں ایبولا پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ یا زیادہ ہے۔
باقی 10 لاکھ امریکی ڈالر کینیا کی حکومت کو خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔
گو نے کہا کہ چین کی جانب سے دی جانے والی یہ تازہ امداد کینیا کی حکومت اور عوام کے لئے چینی حکومت اور عوام کے دوستانہ جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
چینی سفیر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ چین، چین افریقہ تعاون فورم (ایف او سی اے سی) اور گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) کے تحت کینیا کے ساتھ ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔
کینیا کے پرنسپل سیکرٹری کرس کیپٹو نے چین کی جانب سے کینیا کی درخواستوں پر فوری ردعمل اور بروقت مالی امداد کی فراہمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امداد ایبولا کی روک تھام کی کوششوں اور خشک سالی سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
چین کی جانب سے کینیا کو ایبولا سے بچاؤ اور خشک سالی سے نمٹنے کے لئے 20 لاکھ ڈالر کی امداد



