نیو یارک (شِنہوا) ایک امریکی ماہر نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے حوالے سے چین کے اقدامات مثالی ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) بھی ان اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
افریقی امور کے امریکی سیاسی و اقتصادی تجزیہ کار لارنس فری مین، جو 3 دہائیوں سے زائد عرصے سے افریقہ کے لئے اقتصادی ترقی کی پالیسیوں سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ گزشتہ 2 نسلوں کے دوران چین کی اقتصادی کامیابی نے دیگر ممالک کے لئے قابل قدر مثالیں پیش کی ہیں۔
فری مین نے شِنہوا کو حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کو 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لئے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ دنیا بھر میں تقریباً 80 کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
فری مین کے مطابق صرف افریقہ میں تقریباً 44 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہیں جو براعظم کی مجموعی آبادی کے تقریباً ایک تہائی سے کچھ کم ہیں جبکہ وہاں غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فری مین نے کہا کہ ’’ اچھی خبر یہ ہے کہ چین نے 2 نسلوں کے عرصے میں اپنی معیشت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، دیہی علاقوں سے انتہائی غربت کا خاتمہ کیا ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مبنی حقیقی اقتصادی ترقی میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ چین نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔‘‘
امریکی ماہر نے کہا کہ قومی ترقی کے لئے چین کے غیر متزلزل عزم اور موثر اقتصادی نظم و نسق میں مہارت نے دنیا پر ثابت کیا ہے کہ پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
فری مین نے کہا کہ ستمبر 2021 میں چین کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو ترقی کے اس بنیادی اور اہم تصور کو واضح کرتا ہے جسے تمام ممالک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی اور برکس کی ترقی نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے اور عملی سطح پر بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
امریکی ماہر نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ میں چین کا کلیدی کردار دنیا بھر میں اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے بے حد اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ کرہ ارض کا مستقبل گلوبل ساؤتھ کی ترقی میں پوشیدہ ہے۔‘‘
فری مین نے کہا کہ افریقہ میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے خصوصاً بجلی کی پیداوار، ریلوے لائنوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے شعبوں میں بنیادی سہولیات کے بڑے منصوبوں کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
فری مین نے ہر ملک میں اقتصادی ترقی کے حصول کے لئے ایک نئے نظام اور طریقہ کار کی تشکیل پر زور دیا۔
چین کے ترقیاتی ماڈل سے پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہے، امریکی ماہر



