ہاربن (شِنہوا) ڈرائیور کے بغیر چلنے والی فصل کاٹنے والی مشینیں، ڈرونز کے ذریعے نگرانی اور ایل ای ڈی سکرینوں پر جگمگاتے اعداد و شمار۔ اس سال فصل کی کٹائی کے موسم میں چینی کھیتوں نے اپنی جدید تکنیکی صلاحیتوں سے بین الاقوامی صحافیوں کو متاثر کیا۔
27 سے 30 ستمبر تک امریکہ، بیلاروس، قازقستان، کیوبا اور سنگاپور سمیت مختلف ممالک کے تقریباً 30 صحافیوں نے چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کا دورہ کیا، جو چین کے “اناج کے گودام” سے بھی مشہور ہے۔
انہوں نے ہاربن اور جیاموسی شہروں میں زرعی مشینری بنانے والی کمپنیوں اور سمارٹ زراعت کے ایک نمائشی علاقے کا دورہ کیا اور کھیتوں میں جا کر دیکھا کہ ٹیکنالوجی کس طرح چین کے دیہی علاقوں میں نئی تبدیلی لا رہی ہے۔
زرخیز سیاہ مٹی کے وسیع رقبوں کے لئے مشہور حئی لونگ جیانگ چین میں تجارتی پیمانے پر اناج پیدا کرنے کا ایک بڑا مرکز ہے اور ملک میں جدید بڑے پیمانے کی زرعی ترقی کی ایک نمایاں مثال بھی ہے۔
جیاموسی جی چھی ٹریکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی لمیٹڈ میں صحافیوں نے ڈیزل اور بجلی سے چلنے والے ہائبرڈ ٹریکٹر کا جائزہ لیا اور ڈرائیونگ کیبن میں بیٹھ کر اس کے بے دو سیٹلائٹ نیویگیشن اور معاون ڈرائیونگ نظام بھی دیکھا۔
حئی لونگ جیانگ ہوئی دا ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ میں صحافیوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مقامی طور پر تیار کردہ زرعی آلات اور ٹیکنالوجی، جن میں ڈرونز اور سمارٹ آبپاشی کے نظام شامل ہیں، پہلے ہی کئی ممالک اور خطوں کو برآمد کئے جا رہے ہیں۔
ایک ہزار ہیکٹر رقبے پر مشتمل فارم کے کنارے صحافیوں نے بغیر ڈرائیور کے ہارویسٹرز کو مقررہ راستوں پر کام کرتے، فصلوں کی نگرانی اور تحفظ کے لئے ڈرونز کو فضا میں پرواز کرتے اور ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کھیتوں کی صورتحال کی حقیقی وقت میں نگرانی ہوتے دیکھا۔
دی اسٹریٹس ٹائمز سے وابستہ ییو لون تیان نے کہا کہ اب کاشتکاری کے بہت سے امور کو سمارٹ فونز کے ذریعے مانیٹر اور منظم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق چینی کسان اب صرف دستی محنت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ پیداوار بڑھانے کے لئے ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
بیلاروس کی نیشنل اسٹیٹ ٹی وی اینڈ ریڈیو کمپنی سے وابستہ یاراسلاو دانی لینکا زراعت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کردار سے متاثر ہوئے۔
دانی لینکا نے کہا کہ بغیر ڈرائیور کے فصل کاٹنے والی مشین کو کام کرتے دیکھنے سے ان کا یہ یقین مزید پختہ ہوا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مزید ممالک میں بھی متعارف کرائی جائے گی۔
چین کی سالانہ اناج پیداوار میں اہم کردار ادا کرنے والی خزاں کی فصلوں کی کٹائی اس وقت جاری ہے۔ وزارت زراعت و دیہی امور کے مطابق زرعی اور دیہی جدت میں مسلسل پیش رفت کے باعث چین میں 2026 میں اناج کی ریکارڈ پیداوار متوقع ہے۔
چین کے لئے طویل عرصے سے غذائی تحفظ ایک اہم ترجیح رہا ہے۔ چین دنیا کی آبادی کے تقریباً پانچویں حصے کو خوراک فراہم کرتا ہے جبکہ اس کے پاس دنیا کی قابل کاشت زمین کا 9 فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔ تاہم جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور شدید موسمی واقعات میں اضافے کے باعث خوراک کی مستقل فراہمی یقینی بنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان مشکلات کے باوجود چین کی سالانہ اناج کی پیداوار 2024 اور 2025 میں 70 کروڑ ٹن سے زیادہ رہی۔ فی کس دستیاب اناج کی مقدار 500 کلوگرام سے تجاوز کر گئی جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔
چین نے 2026 سے 2030 تک زرعی اور دیہی جدت کے لئے ایک منصوبہ جاری کیا ہے، جس میں زرعی ترقی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے 67 فیصد کردار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے میں زراعت میں مصنوعی ذہانت کے وسیع تر استعمال اور شعبہ زراعت میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کے لئے اہم پیش رفت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی صحافیوں کا چین کے زرعی مرکز میں سمارٹ زراعت کے ذریعے آنے والی تبدیلی کا مشاہدہ



