اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کا توسیعی اجلاس قائم مقام صدر فیصل اعوان اور سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) شکیل احمد کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں جڑواں شہروں کے عامل صحافیوں کو درپیش مسائل، جبری برطرفیوں، بیروزگاری، جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس، میڈیا ٹاؤن فیز ٹو، ممبرشپ مہم، صحافیوں کی تربیت اور آزادی اظہار سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر آر آئی یو جے فیصل اعوان نے کہا کہ عامل صحافیوں کو کسی صورت بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگر کسی ایک صحافی کو بھی بلاجواز بیروزگار یا جبری طور پر برطرف کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ میڈیا ہاؤسز کے باہر احتجاجی کیمپ اور دھرنے دیے جائیں گے۔ صحافیوں کے معاشی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بیروزگار اور برطرف ہونے والے صحافیوں کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا، جدید صحافتی ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ روزگار کے نئے مواقع حاصل کرسکیں۔ صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فیصل اعوان نے بتایا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سینئر صحافیوں پر مشتمل دو سات رکنی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو متعلقہ سرکاری محکموں، اتھارٹیز اور اداروں کے سربراہان سے رابطہ کرکے مسائل کے حل کے لیے مؤثر پیروی کریں گی۔ صحافیوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں مسائل درج کراکے متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کیا جائے گا۔
پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے کہا کہ جڑواں شہروں کے صحافیوں کے حقوق کی پاسبانی کے لیے آر آئی یو جے مؤثر اور توانا آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد میں جہاں بھی آر آئی یو جے کو ضرورت ہوگی، پی ایف یو جے ملکی و بین الاقوامی سطح پر اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
شکیل احمد نے کہا کہ کسی ایک صحافی کو بھی بلاجواز برطرف کیا گیا تو میڈیا ہاؤسز کے باہر احتجاجی کیمپ اور دھرنے دیے جائیں گے، جبکہ صحافیوں کے معاشی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے آر آئی یو جے میں شمولیت اختیار کرنے والے نئے ارکان رانا اقبال سکندر، فرین اور سیدہ خالدہ کو خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ نئے ساتھی صحافی برادری کے حقوق اور تنظیمی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ویڈیو جرنلسٹس کے صدر منتخب ہونے پر طارق رانا کو بھی مبارکباد دی اور کہا کہ ویڈیو جرنلسٹس صحافت کا اہم حصہ ہیں، ان کے مسائل اور حقوق کے تحفظ کے لیے پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے مل کر کام کریں گی۔
شکیل احمد نے کہا کہ جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس کے معاملے میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سکروٹنی کا عمل جاری ہے۔ تقریباً دو دہائیوں سے اپنی چھت کے منتظر عامل صحافیوں کے لیے فہرست کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنایا جا رہا ہے تاکہ کوئی حقدار اپنے جائز حق سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ جڑواں شہروں کے صحافیوں کو میڈیا ٹاؤن فیز ٹو کے حوالے سے بھی جلد خوشخبری سنائی جائے گی۔
انہوں نے آر آئی یو جے کی ممبرشپ مہم تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں صحافی برادری بالخصوص نوجوان صحافی بھرپور شرکت کریں اور جمہوری انداز میں اپنی قیادت کا انتخاب کریں۔
پی ایف یو جے کے نائب صدر قیصر مرزا نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد میں آر آئی یو جے صف اول میں ہے۔ آر آئی یو جے نے پی ایف یو جے کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کی، جس میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی صدر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کی آواز پارلیمنٹ سے بین الاقوامی فورمز تک مؤثر انداز میں اٹھائی جاتی رہے گی۔
ممبر ایف ای سی اسحاق چوہدری نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج ہو یا صحافیوں کی برطرفیوں کے خلاف جدوجہد، آر آئی یو جے نے ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کے لیے توانا آواز بلند کی ہے۔
ممبر ایف ای سی عادل شاہ نے کہا کہ قلم، کیمرے اور مائیک کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے صحافیوں کے حقوق کا تحفظ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے کی ترجیح رہا ہے۔ دونوں تنظیموں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
آر آئی یو جے کے جنرل سیکرٹری رضوان غلیزئی نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے لیے پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے کی جانب سے جاندار آواز اٹھانے کے باعث جڑواں شہروں کے صحافیوں نے نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں ہمارے پینل کے امیدواروں کو کامیابی دلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صحافی برادری کے اعتماد کا اظہار ہے اور اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے مزید متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔
سینئر جوائنٹ سیکرٹری عبدالوحید جنجوعہ نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے تنظیمی اتحاد اور باقاعدہ رابطہ کاری ضروری ہے۔ یونین کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں تاکہ صحافیوں کے درمیان رابطے مؤثر ہوں اور مشکلات میں گھری صحافتی برادری کے مسائل بہتر انداز میں حل کیے جاسکیں۔
جوائنٹ سیکرٹری خالد ملک نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل صرف احتجاج تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ہر معاملے کو متعلقہ اداروں، میڈیا ہاؤسز اور حکام کے سامنے اٹھا کر مسئلے کے حل تک مؤثر فالو اَپ ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوان اور بیروزگار صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل جرنلزم، جدید میڈیا ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔
آر آئی یو جے کے سیکرٹری اطلاعات مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ موجودہ دور میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا، ویڈیو جرنلزم، موبائل جرنلزم، ڈیٹا جرنلزم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز صحافت کا اہم حصہ بن چکے ہیں، اس لیے صحافیوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا، موبائل جرنلزم، ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، ڈیجیٹل پبلشنگ، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور فری لانسنگ سمیت مختلف شعبوں میں اسکل بیسڈ ٹریننگ پروگرامز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔
مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ بیروزگار اور جبری برطرفی کا شکار صحافیوں کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں، انہیں ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ کے ذریعے موجودہ میڈیا مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہوگا تاکہ وہ روایتی میڈیا کے ساتھ ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز اور فری لانس مارکیٹ میں بھی مواقع حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے جائز حقوق، جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس، روزگار کے تحفظ، جبری برطرفیوں کی روک تھام اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے تنظیمی، قانونی اور عملی سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
جوائنٹ سیکرٹری عائشہ ناز نے کہا کہ آزادی اظہار پر پابندیاں، بیروزگاری، اچانک اور جبری برطرفیاں اور روزگار کے مواقع میں کمی صحافی برادری کے لیے سنگین مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کے تعاون سے صحافیوں کی جدید میڈیا ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں۔
سینئر صحافی طارق مسعود نے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی صحافیوں کے مسائل اجاگر کرنے پر شکیل احمد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں میں پاکستانی صحافیوں کی مؤثر نمائندگی ایک اہم پیش رفت ہے۔

سینئر صحافی مظہر طفیل نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی برادری کے معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے تنظیمی اتحاد اور باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
سینئر صحافی ابوبکر مشتاق نے کہا کہ آر آئی یو جے اور پی ایف یو جے نے گزشتہ چند برسوں کے دوران صحافیوں کے حقوق کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور اب صحافیوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔
سینئر صحافی راشد حبیب نے کہا کہ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے صحافیوں کے حقوق، آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گی۔
اجلاس میں جڑواں شہروں سے شریک عامل صحافیوں نے بیروزگاری، جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمت کے غیر یقینی حالات اور دیگر پیشہ ورانہ مسائل سے قیادت کو آگاہ کیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مسائل کے حل کے لیے متعلقہ میڈیا ہاؤسز، سرکاری اداروں اور دیگر فورمز پر مؤثر آواز اٹھائی جائے۔
قیادت نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے قانونی، تنظیمی اور عملی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے معاشی، پیشہ ورانہ اور تنظیمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کسی بھی صحافی کے ساتھ ناانصافی، جبری برطرفی یا حقوق کی پامالی کی صورت میں متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی۔
اجلاس میں شکیل احمد، قیصر مرزا، اسحاق چوہدری، طارق مسعود، ابوبکر مشتاق، راشد حبیب، مظہر طفیل، رضوان غلیزئی، مدثر الیاس کیانی، عبدالوحید جنجوعہ، خالد ملک، طارق رانا، عادل شاہ، عائشہ ناز، فرین، سیدہ خالدہ، محمود چوہدری، یاسر زبیری، محمد فیصل ندیم، اعجاز ساگر، مدثر داؤد، ملک جنید، رانا طارق، رجب علی، محمد فیاض چوہدری، ابرار احمد، اسد تنولی، اسرار شاہ اور دیگر ایگزیکٹو ممبران سمیت جڑواں شہروں کے عامل صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔



